حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 213 of 923

حیاتِ خالد — Page 213

حیات خالد 219 مناظرات کے میدان میں مباحثه چک نمبر ۶۵ ۵ ضلع لانکور چک نبرد ۶۵ میں گیانی واحد حسین صاحب، گیانی عباد اللہ صاحب، مولوی ابوالعطاء اللہ دتا صاحب، مولوی دل محمد صاحب اور مہاشہ محمد عمر صاحب بھیجے گئے ہیں۔الفضل ۱۱ اکتوبر ۱۹۳۹ صفحه : کالم نمبر : ( رعنوان میه اسیا: جلد ۲۷ نمبر ۳۳۳) گوجرانوالہ کے غیر مبالعین نے جماعت گوجوانوالہ میں غیر مبائعین سے مناظرہ احمد یہ گوجرانوالہ کو اختلافی مسائل پر تبادلہ خیالات کی تحریری دعوت دی جو جماعت احمدیہ گوجرانوالہ نے منظور کر لی اور اس پر نظارت دعوت و تبلیغ قادیان نے مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری اور قاضی محمد نذیر صاحب لائل پوری کو گوجرانوالہ مناظرہ کیلئے بھیجا۔چنانچہ ۳۱ امان ۱۳۱۹اہش مطابق ۳۱ مارچ ۱۹۴۰ء بروز اتوار مناظرہ ہوا۔غیر مبائعین کی طرف سے مناظرہ سے پہلے یہ اصرار شروع ہوا کہ سب سے پہلے کفر و اسلام پر مناظرہ ہو اس پر انہیں کہا گیا کہ طبعی ترتیب کے لحاظ سے پہلے نبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مناظرہ ہونا چاہیے مگر غیر مبائعین نے کہا کہ اگر آپ اس مسئلہ پر پہلے مناظرہ کرنے کے لئے تیار نہیں تو وہ مناظرہ نہیں کریں گے۔جب ہم نے دیکھا کہ وہ راہ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں تو ہم نے تبلیغی نقطہ نگاہ سے غیر مبائعین کی اس بات کو بھی مان لیا اور وقت و غیرہ کی تعیین کے متعلق ان سے شرائط طے کیں۔غیر مبائکین کے مناظر مولوی احمد یار صاحب نے کہا کہ خلافت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مناظرہ کی کوئی ضرورت نہیں۔کیونکہ اس بارہ میں ہم میں اور آپ میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خلیفہ اللہ ہیں۔ہماری طرف سے کہا گیا کہ خلافت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے موضوع سے مراد یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت کا سلسلہ ہوگا۔یہ امر ہم میں اور آپ میں مختلف فیہ ہے۔مولوی احمد یا ر صاحب نے کہا کہ نہیں۔اس موضوع کا مفہوم یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خلیلتہ اللہ ہیں یا نہیں۔ہم نے کہا کہ اگر آپ لوگوں کے نزدیک اس عنوان کا یہی مفہوم ہے تو پھر آپ لوگوں نے ہمیں اس پر تبادلہ خیالات کی کیوں دعوت دی۔کیا جماعت احمدیہ نے کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ اللہ ہونے کے بارے میں آپ سے اختلاف کیا۔مولوی احمد یار صاحب نے بالآخر متیوں مضامین پر مناظرہ کرنا قبول کر لیا۔مگر شرائط طے کر دو پر دستخط کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے اور کہا کہ زبانی اقرار ہی کافی ہے۔اس پر پہلے مسئلہ کفر و اسلام پر مناظرہ شروع ہوا۔