حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 212 of 923

حیاتِ خالد — Page 212

حیات خالد 218 مناظرات کے میدان میں تھیں اور مضامین مسئلہ تخلیق عالم ، حقیقت بجسم اور کفارہ علی الترتیب مقرر تھے۔عیسائی مشن کی طرف سے ہمیں بھی با قاعدہ دعوت شمولیت آچکی تھی۔نیز ان کے اشتہار میں سوال و جواب کا موقع دینے کا بھی اعلان اور وعدہ تھا۔لہذا جماعت کے احباب ان کے جلسہ میں بکثرت شریک ہوئے۔پہلے روز ہی پادری صاحب نے اعلان کر دیا کہ اشتہار میں سوال و جواب کا موقع دینے کا وعدہ میری مرضی کے خلاف ہے اور اشتہارات پرانے ہیں۔پادری صاحب نے اپنی ہر سہ تقاریر مشن احاطہ گرلز سکول میں کیں۔مضمون کفارہ پر ۲۸ مئی کو تقریر کے وقت مولوی ابوالعطاء صاحب نے بھی شرکت فرمائی اور پادری عبدالحق صاحب سے ۲۹ مئی کو مسجد احمد یہ انبالہ شہر میں بوقت صبح کے بجے سے ۱۰ بجے تک سوال و جواب کا وعدہ لیا۔اس دن مسجد احمد یہ میں پبلک کی متوقع آمد کے مطابق انتظام کر دیا گیا اور یہ شاندار تبادلہ خیالات کے بجے صبح شروع ہوا۔کثرت سے مسلمان شریک ہوئے اور عیسائی مشن کے دس کے قریب اصحاب بھی تشریف لائے۔جوں جوں وقت گزر رہا تھا پبلک سے مسجد بھر رہی تھی۔کے بجے سے ۱۰ بجے تک سکوت کا عالم تھا سوائے مناظرین کے کسی کو بولنے کی اجازت نہ تھی۔مولوی ابوالعطاء صاحب کی طرف سے حضرت مسیح علیہ السلام کی صیب پر موت کے عینی گواہان کا مطالبہ تھا اور محض بائبل سے اثبات وتر دید کا فیصلہ تھا مگر پادری عبدالحق صاحب جواباً محض اپنے عقیدہ پر سہارا لیتے تھے اور مسئلہ کفارہ پر عقلی محالات وارد کرنے کا زور دیتے تھے۔چنانچہ رفتہ رفتہ مولوی ابوالعطا ءصاحب نے بائبل سے اس قدر عقلی محالات کا انبار حضرت مسیح علیہ السلام کی عدم صلیبی موت اور کفارہ کی عدم ضرورت پر وارد کئے کہ پادری صاحب چند ایک باتوں کے سوا باقی امور کی طرف رخ بھی نہ کر سکے اور اپنی پوزیشن کے نازک ہونے کا بار ہا ذکر کرتے رہے حاضرین اس مناظرہ سے بہت محظوظ ہوئے۔احباب جماعت نے جو اسلامی اخلاق کا مظاہرہ کیا وہ قابل تعریف تھا اور عیسائی صاحبان کیلئے بہت موثر۔ایک غیر احمدی نے اپنے تازہ خبروں کے بورڈ پر مناظرہ کے بعد لکھا۔پادری عبدالحق صاحب مولوی ابو العطاء صاحب کے مطالبہ عینی گواہان بر صلیبی موت مسیح کو آخر وقت تک پورا نہ کر سکا اور دیگر سوالات کا بھی معقول جواب نہ دے سکا اس لئے کامیابی کا سہرا مولوی ابو العطاء اللہ دتا صاحب کے سر بندھا“۔خاکسار۔کرامت اللہ عفی عنہ۔سیکرٹری تبلیغ الفضل قادیان : ۹ جون ۱۹۳۹ء صفحه ۷ نمبر ۱۳۱: جلد ۲۷)