حیاتِ خالد — Page 211
حیات خالد 217 مناظرات کے میدان میں سماج دہلی سے ایک مباحثہ بھی ہوا۔روزنامہ الفضل قادیان نے لکھا:۔مباحثہ : تقاریر کے علاوہ جلسہ میں ایک خاص کشش مباحثہ نے پیدا کر دی جو کہ ضرورت و عدم ضرورت قرآن پر احمدی جماعت اور آریہ سماج دیلی کے درمیان ۲ را پریل کی شام کو قرار پایا تھا۔پہلے تو آریہ سماج نے گریز کا طریق اختیار کیا مگر بعد میں شمولیت پر آمادگی کا اظہار کیا اور ایک نوجوان پنڈت جی کو پیش کیا۔ہماری طرف سے مولوی ابوالعطاء صاحب تھے۔ابتداء میں ہی آریہ پنڈت جی کو اسلامی نمائندہ کے دلائل اور اپنی کمزوری کا احساس ہونے لگا مگر انہوں نے جوں توں کر کے اپنا وقت پورا کیا اور بین فتح ضرورت قرآن کی رہی۔(نامہ نگار ) (روز نامه الفضل قادیان دارالامان : ۱۲ را پریل ۱۹۳۸ء صفحه ۹) پچھلے دنوں آریہ سماج شملہ سے دو مباحثات آریہ سماج شملہ سے دو کامیاب مباحثے قرار پائے تھے۔مضامین قدامت روح و مادہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشنگوئی متعلق پنڈت لیکھرام تھے۔مولوی ابو العطاء صاحب اور مہاشہ محمد عمر صاحب قادیان سے آئے۔دونوں مباحثات مولوی ابوالعطاء صاحب نے کئے۔مہاشہ صاحب پریذیڈنٹ تھے۔پہلے مباحثہ میں مدمقابل پنڈت رام چندر دہلوی اور دوسرے میں پنڈت چرنجی لال پریم تھے۔مباحثے خدا کے فضل سے نہایت کامیاب ہوئے۔آخر الذکر مناظر سخت کلامی میں مشہور ہے جس کی وجہ سے آریوں کو بھی بے چینی تھی۔مناظرہ سے پہلے سماج کے سیکرٹری نے مجھ سے کہا کہ میں نے پریم صاحب کو سخت کلامی کے بارے میں خصوصیت سے منع کیا ہے تم مولوی صاحب کو تاکید کر دینا تا کہ نا خوشگوار حالات پیدا نہ ہوں۔مضمون تو ایسا تھا ہی جس کی وجہ سے سماج کو کامل شکست ہونی چاہیے تھی اور وہ ہوئی۔لیکن جس بات کا خاص اثر تمام پبلک پر ہوا اور جس کا ہر ایک نے آریہ سماجیوں سمیت اعتراف کیا وہ مولوی صاحب کی متانت اور زبان کی شائستگی تھی۔مضمون نازک تھا بات انہوں نے ساری کہہ دی لیکن ایسے الفاظ میں کہ دل آزاری نہ ہونے پائے۔ہر دو مباحثات کا اثر عام پبلک پر (جس میں غیر احمدی ہندو، سکھ ، آریہ سب تھے ) خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھا رہا۔روزنامه الفضل قادیان دارالامان: ۱۸ ستمبر ۱۹۳۸ء : صفحه ۲) انبالہ میں ۲۶ ۲۷ ۲۸ مئی (۱۹۳۹ء) انبالہ میں عیسائیوں سے کامیاب مناظرہ پادری عبدالحق صاحب کے لیکھر کیلئے مخصوص