حیاتِ خالد — Page 209
حیات خالد 215 مناظرات کے میدان میں پبلک نے ہر دو مناظروں کو نہایت دلچسپی اور توجہ سے سنا۔اور مناظرہ کے انتقام پر مسلمان، ہندو اور سکھ سب کی زبان پر احمدی مناظروں کی کامیابی اور آریہ مناظر کی کھلی شکست کا ذکر تھا۔یہاں تک کہ آریہ دوست خود بھی اپنے مناظر کی کمزوری اور احمدی مناظر کی کامیابی کا اعتراف کر رہے تھے۔تیسرا مناظرہ پنڈت ست دیو صاحب آریہ مناظر چونکہ دونوں مناظروں میں زک اٹھا چکے تھے۔اس لئے آریوں نے بذریعہ خاص قاصد لا ہور سے پنڈت چرنجی لعل صاحب پریم کو بلایا اور تیسرا مناظرہ ۲۶۔اپریل ۱۹۳۷ء کو ۹ بجے رات مسئلہ تاریخ پر شروع ہوا۔ہماری طرف سے مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری اور آریوں کی طرف سے پنڈت چرنجی لعل پیش ہوئے۔مولانا نے قریباً چالیس مقلی اور علمی دلائل عقیدہ تناسخ کے بطلان میں پیش کئے جن کا آریہ مناظر اخیر تک کوئی جواب نہ دے سکا اور نہ آریوں کی تسکین کا باعث بن سکا۔ہمارے مناظر کے مدلل جوابات نے جونہایت فصیح و بلیغ پیرایہ میں پیش کئے جا رہے تھے سامعین پر خاص اثر کیا جس کا تعلیم یافتہ پبلک نے بعد میں ذکر کیا۔ہرسہ مناظروں میں سامعین کی تعداد تقریبا۲ ہزار تک رہی۔مناظروں کے اختتام پر اسلام کی فتح اور آریوں کی شکست پر مسلمانوں کی طرف سے شہر میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔یہاں تک کہ بعض معززین نے ہمارے مناظروں سے مل کر اس کا اعتراف کیا کہ ان کے دل میں حضرت مرزا صاحب کی عزت گھر کر گئی ہے اور ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ان کا زبردست معجزہ ہے کہ ان کے پیرو مخالفین اسلام کی زہریلی کھلیاں توڑنے میں مصروف ہیں اور ہر میدان میں فتح حاصل کر رہے ہیں۔آخر میں ہم مقامی پولیس اور بالخصوص ملک عبدالکریم خان صاحب سب انسپکٹر جہلم کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کے حسن انتظام سے جلسہ اور مناظرہ بڑے امن اور اطمینان سے ہوا۔( نامہ نگار ) (الفضل ۶ مئی ۱۹۳۷ء صفحہ ۱۰) الحمد للہ گذشتہ سال کی طرح آریہ سماج کراچی کراچی میں آریوں سے کامیاب مناظرہ کو اس دفعہ (اپریل ۱۹۳۸ء میں) بھی احمدیوں کے مقابلہ میں شکست فاش ہوئی۔کراچی کی آریہ سماج اس وہم میں مبتلا تھی کہ پنڈت رام چندر صاحب دہلوی کے مقابلہ میں اور کوئی جماعت اپنا مناظر پیش نہیں کر سکتی۔چنانچہ گزشتہ سال بھی انہوں نے ایک چیلنج شائع کر کے تمام جماعتوں یعنی غیر احمد ہوں ، عیسائیوں اور احمدیوں کی طرف بھیجا تھا۔ہم نے فوراً اسے قبول کر لیا اور حدوث روح و مادہ اور تاریخ پر دو دن ان سے بحث کی گئی۔مولانا ابوالعطاء اللہ دتا صاحب کی زبردست تقریرین کر آریہ سماجی منتظمین کا ماتھا ٹھنکا اس لئے انہوں نے اسی جلسہ میں