حیاتِ خالد — Page 20
حیات خالد ابو العطاء خود اپنی نظر میں 20 ایک دل گداز تحریر ایک دل گداز تحریر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے بلاد عر بیہ میں تبلیغ اسلام کیلئے روانگی سے ٹھیک ایک ماہ قبل ۱۳ جولائی ۱۹۳۱ء بوقت کے بجے شام مسجد مبارک قادیان میں بیٹھ کر اپنے قلبی جذبات کا ذکر اپنی ایک ذاتی ڈائری میں کیا۔تنہائی میں لکھے گئے یہ الفاظ حضرت مولانا کی دلی کیفیت اور شخصیت کے آئینہ دار ہیں۔یہ دل گداز تحریر پہلی بار شائع کی جارہی ہے۔بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ ا اے خدا! تو ہی اکیلا آسمان و زمین اور ہر چیز کا خالق ہے اور تیری معرفت ہی زندگی کا مقصد ہے۔میں تیرا ایک نہایت ہی ناکارہ ، گنہ گار اور خود فراموش بندہ ہوں۔میرے حال پر رحم فرما۔اور آج تک کے تمام گناہ، سب خطائیں ، ساری لغزشیں اور کل بے اعتدالیاں معاف فرما۔ان کے بداثرات اور بدنتائج سے محفوظ رکھ۔میرے بُرے افعال اور گندے اخلاق کے زہریلے اثرات سے تمام بنی نوع کو بالعموم اور میرے متعلقین ، اہل و عیال اور میری جان کو بالخصوص بیچا۔اے میرے رب ! میں تیرا عاجز بندہ ہوں۔میں آج مسجد مبارک میں اس مقام پر بیٹھ کر جو تیرے پیارے بندے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹھنے کا مقام ہے۔تجھ رب غفار وستار سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہوں۔اور آئندہ کے لئے جتنے لمحات میری زندگی کے باقی ہیں ان میں محض تیری رضا کیلئے ہر ایک کام کرنے کا عہد کرتا ہوں۔سب انسان اور ان کی رضا فانی ہے۔