حیاتِ خالد — Page 207
حیات خالد 213 مناظرات کے میدان میں ہو سکتا۔بہر کیف مشتے نمونہ از خروارے ہم ذیل میں چند اعتراضات کا ذکر کرتے ہیں جو مولانا نے پنڈت صاحب پر کئے۔(۱) اگر ہر اختلاف کا باعث گذشتہ جنم ہی ہے تو کیا وجہ ہے کہ ایشور، روح و مادہ میں اختلاف ہے۔حالانکہ تم ان کا پہلا جنم کوئی تسلیم نہیں کرتے۔(۲) کیا وجہ ہے کہ سوامی دیانند صاحب نے ستیارتھ پر کاش میں تندرست بچے پیدا کرنے کیلئے مختلف طریقے بتائے ہیں۔(۳) تناسخ کی صورت میں تمہیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پنڈت دیا نند صاحب اور تمام آریوں کے گذشته اعمال انگریزوں کے گذشتہ اعمال کی نسبت برے تھے۔کیونکہ موجودہ جنم میں انگریز حاکم ہیں اور آریہ محکوم۔(۴) تمہاری کتب میں صاف لکھا ہے کہ جو شخص برہمن کو قتل کرے وہ گائے کے جنم میں جاتا ہے۔اس صورت میں کیا وجہ ہے کہ تم مسلمانوں کا شکریہ ادا نہیں کرتے جو گائے کو ذبح کر کے کھاتے ہیں بلکہ الٹا گائے کو پوجتے ہو۔(۵) اگر تمہاری محکومیت گزشتہ اعمال کی خرابی کی وجہ سے ہے تو سوراج کیلئے جدو جہد کے کیا معنی؟ کیوں تاریخ پر ایمان لا کر اس جدو جہد کو ترک نہیں کر دیتے کیونکہ ویدوں کی رو سے جب تک تمہارے گزشتہ اعمال کا تقاضہ ہے تم لاکھ کوشش کرو تم محکوم کے محکوم ہی رہو گے۔اور جب وہ اعمال ختم ہو جائیں گے تم چاہے کوشش کرو یا نہ کر و آزادی تمہارے قدم چومنے کیلئے خود بخود تیار ہو جائے گی۔ان اعتراضات کے جوابات تو پنڈت صاحب نے کیا دینے تھے پبلک کو دھو کہ میں ڈالنے کیلئے قرآن مجید کی چند آیتوں کو پڑھ کر اپنا مدعا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔حالانکہ پہلی ہی باری میں مولانا نے تمام پیش کردہ آیات کا مفہوم مدلل طور پر سمجھا دیا تھا۔بہر حال جس قدر آیات پنڈت صاحب نے پیش کیں ان کا نہایت مکمل اور مدلل جواب انہیں مولا نا صاحب نے دیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے حق کا بول بالا ہوا اور باطل بھاگ گیا۔إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا خاکسار- محمد نواز کنگی۔سیکرٹری تبلیغ انجمن احمد یہ کراچی الفضل قادیان دارالامان ۱۴ اپریل ۱۹۳۷ء: صفحه ۸ : نمبر ۸۲: جلد ۲۵)