حیاتِ خالد — Page 205
حیات خالد 211 مناظرات کے میدان میں آئیں۔لیکن پھر بھی بعض احمدی نوجوان سخت زخمی ہوئے۔جن میں ایک صاحب چوہدری احسان الہی صاحب تھے جو مولانا نذیر احمد صاحب مبشر کے تایا زاد بھائی تھے۔اسی طرح ہمارے بڑے بھائی میاں محمود احمد صاحب مرحوم کو ( جو کہ بعد میں پشاور کی جماعت کے امیر ہوئے ) سر پر چوٹیں آئیں۔جن کا کافی لمبا علاج ہوتا رہا۔بچپن کے ان دنوں میں مجھے اس بات پر سخت حیرت تھی کہ والدہ کا انتقال ابھی ہوا ہے اور پھر احمدیوں کو چوٹیں بھی آئی ہیں خود ہمارے بھائی سخت زخمی ہوئے ہیں پھر بھی سب لوگ ان باتوں کو بھول کر مناظرہ کی کامیابی پر خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ہمارے گھر میں حضرت مولانا صاحب کی تصنیف "تمہیمات ربانیہ" کا بھی بڑا چہ جا تھا اس وقت مجھے پتہ چلا کہ اس کتاب پر جن مصنف صاحب کا نام درج تھا یہ وہی مولوی اللہ دتا صاحب ہیں جو ابو العطاء کے نام سے مشہور ہیں اور انہوں نے ہی مناظرہ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ملتان شہر میں ۴ را پریل ۱۹۳۷ء کو صبح سے لے کر ظہر تک جمعیت احناف ملتان سے مباحثہ جماعت احمد یہ اور جمعیت احناف ملتان کے درمیان جمعیت کی جلسہ گاہ میں صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مناظرہ ہوا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے مولوی ابوالعطاء صاحب مناظر تھے اور جمعیت احناف کی طرف سے سائیں لال حسین صاحب اختر۔حسب قاعدہ مدعی ہونے کے باعث احمدی مناظر کی پہلی اور آخری تقریر تھی اسی طرح دوسری شرائط مناظرہ میں ایک شرط تہذیب و متانت کی تھی۔مولوی ابوالعطاء صاحب نے اپنی پہلی تقریر میں قرآن مجید، احادیث اور دیگر معقول اور ٹھوس دلائل سے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت واضح کی اور آخر وقت تک نہایت ہی سنجیدگی ، متانت اور فاضلانہ پیرایہ میں اپنا مضمون نبھاتے رہے۔مگر فریق ثانی قرآنی معیاروں کی طرف آنے کی بجائے دروغ بیانی، تحریف و تمہیں ، بد زبانی اور اشتعال انگیزی پر اُتر آیا اور گالیاں دینے میں حد کر دی اور جب احمدی مناظر کی آخری تقریر کا وقت آیا تو فریق مخالف کے پریذیڈنٹ صاحب اور ان کے ساتھی اٹھ کھڑے ہوئے اور محفل مناظرہ درہم برہم ہو گئی۔احمدیوں نے اس خلاف ورزی کی جانب توجہ دلائی مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔آخر بعض پولیس افسروں کے کہنے پر احمدی اصحاب جلسہ گاہ سے باہر آگئے اس مناظرہ میں حاضرین کی تعداد قریباً دو تین ہزار ہوگی۔الفضل ۹ را پریل ۱۹۳۷ء : صفحه ۱۲: تاریخ احمدیت : جلد ۸ صفحه ۴۴۳،۴۴۲)