حیاتِ خالد — Page 204
حیات خالد 210 مناظرات کے میدان میں شریف لوگوں نے ہمارے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور فریق مخالف کی جہالت اور درندگی کی مذمت کی۔خاکسار۔غلام حسین از دہلی روز نامه الفضل قادیان دارالامان : ۱۰ مارچ ۱۹۳۷ء از دیلی صفحه ۲) دہلی کے اس مناظرہ کے بارے میں محترم پروفیسر سعود محترم پروفیسر سعود احمد خان کی یاد احمد خان صاحب سابق پروفیسر احد یہ سکنڈری سکول گھانا، سابق پروفیسر شعبہ تاریخ تعلیم الاسلام کالج ربوہ اور سابق استاد جامعہ احمد یہ ربوہ تحریر فرماتے ہیں:۔عاجز حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کے نام سے ۱۹۳۷ء میں واقف ہوا جب کہ میں ابھی پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔حضرت مولانا صاحب کا ایک دیو بندی عالم کے ساتھ دہلی کے پریڈ گراؤنڈ میں جو جامع مسجد کے سامنے تھا مناظرہ ہوا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مناظرہ نہایت کامیاب ہوا۔میں تو اس وقت بچہ تھا مجھے مناظرہ کی کامیابی کا اندازہ اس طرح ہوا کہ میں نے دیکھا کہ احمدی احباب بے حد خوش تھے۔لیکن جس بات نے مجھے بے حد حیران کیا وہ یہ تھی کہ ان ہی دنوں میں ہماری والدہ کا انتقال ہوا تھا۔گھر میں غم اور الم کی فضا چھائی ہوئی تھی لیکن اس شام کو جب گھر کے بڑے افراد واپس آئے تو سب کے چہروں پر خوشی کے آثار نمایاں تھے۔گھر میں غم کی فضا کے دوران اس خوشی کو دیکھ کر میں بچپن میں حیران ہوا۔دریافت کیا تو پتہ چلا کہ ہماری جماعت کے ایک عالم نے جن کا نام مولوی ابو العطاء اللہ دتا جالندھری ہے ایک نہایت کامیاب مناظرہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جماعت کو نمایاں فتح عطا فرمائی ہے۔حالانکہ مناظرہ کے بعد مخالفین نے ہماری جماعت کے علماء کو گھیر کر مارنے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مولانا صاحب تو محفوظ رہے کیونکہ اس خیال سے کہ مناظرہ انہوں نے کیا ہے اس لئے مخالفین انہی کو نشانہ بنا ئیں گے احمدی نوجوانوں نے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔محترم مولانا محمد یار عارف صاحب مرحوم کو مخالفین نے پکڑ لیا جو ہماری طرف سے صدر مناظرہ تھے ان کو زدوکوب کیا گیا۔محترم مولانا غلام احمد صاحب بد و ملہوی بھی وہاں موجود تھے۔انہوں نے سفید گڑی پہن رکھی تھی جب کہ ہمارے اکثر علماء سبز پگڑیاں باندھا کرتے تھے اس لئے مخالفین ان کو نہ پہچان سکے وہ کرسی پر بھی نہ بیٹھے ہوئے تھے بلکہ تخت پر بیٹھے تھے اور حوالہ جات نکالنے میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی مدد کر رہے تھے۔مولا نا عارف صاحب کو بچانے میں احمدی نو جوانوں نے جوانمردی دکھائی اور مخالفین کے زریعے سے ان کو نکال لانے میں کامیاب ہو گئے اور زیادہ چوٹیں نہ