حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 202 of 923

حیاتِ خالد — Page 202

حیات خالد 208 مناظرات کے میدان میں ہوا نہیں۔یہاں تک تعلی کی کہ میں، اروپے انعام دوں گا اگر یہ حوالہ اسی طرح ہو جس طرح پڑھا جارہا ہے۔آخر دس روپے صاحب صدر کے پاس جمع کروائے اور مولوی صاحب نے دکھا دیا کہ حوالہ لفظ بلفظ ٹھیک ہے اس پر عبداللہ صاحب چکرائے۔مولوی صاحب نے یہ بھی واضح فرمایا کہ ہمیں دیکھنا چاہئے مولوی ثناء اللہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں اس دعا کو کیا سمجھتے رہے۔ہم | مدت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ قسم کھا کر بیان دیں لیکن وہ اس طرف نہیں آتے جس کا صاف یہ مطلب ہے کہ مولوی صاحب خود بھی اسے دعائے مباہلہ ہی سمجھتے رہے ہیں اور اسی لئے انہوں نے کہا کہ مجھے یہ منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے۔جب مناظرہ ختم ہوا تو سلیم الطبع لوگوں پر اتنا گہرا اثر چھوڑ گیا کہ مخالفین نے بھی جناب مولوی ابو العطاء صاحب کی شرافت علمیت، سنجیدگی اور وسیع حوصلگی کا اعتراف کیا اور آپ کے طرز کلام پر خوشی کا اظہار کیا۔برخلاف اس کے عبداللہ صاحب کی سوقیانہ حرکات اور لغو اشعار اور درشت کلامی کو ان کے اپنے آدمیوں نے بھی نا پسند کیا۔بہر حال میں سیکرٹری محمد یہ جنگ مین اور منتظمین جلسہ کا شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اچھے طریق سے انتظام کیا۔محمد شفیع اسلم۔نائب مہتم تبلیغ ضلع گوجرانوالہ الفضل ۲۷ ؍جون ۱۹۳۶ء : صفحه ۹) 00 الحمد لله که مناظرہ مہت پور بڑی خوش اسلوبی اور میت پور میں چار روز شاندار مناظرہ احسن انتظام کے ماتحت اختتام پذیر ہوا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے ابوالعطاء مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری اور شیعہ اصحاب کی طرف سے مرزا یوسف حسین مناظر تھے۔مضامین مناظرہ مہدویت حضرت مرزا صاحب علیہ السلام، متعہ ، ختم نبوت کی حقیقت ،تعزیہ داری تھے۔پہلے روز کے مناظرہ کے بعد پبلک کی درخواست پر فریقین کے نمائندوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ آئندہ مدعی کے چار پر ہے اور سائل کے تین پر چے ہوں۔سو پہلے مضمون میں پانچ پر چھے اور تیسرے مضمون میں چار پرچے ابو العطاء مولوی اللہ دتنا صاحب نے لکھے اور چار پر پچے شیعہ مناظر نے اور دوسرے اور چوتھے مضمون میں چار پر چے شیعہ مناظر نے اور مولوی اللہ دتا صاحب نے تین تین پرچے لکھے۔روزانہ صبح سات بجے سے ایک بجے تک میدان مناظرہ میں ہی ہر دو مناظر پر چے لکھتے اور پھر تین بجے سے سنانے شروع ہوتے تھے۔پرچہ سنانے کے متعلق یہ شرط تھی کہ مناسب تشریح کی جاسکتی