حیاتِ خالد — Page 201
حیات خالد 207 مناظرات کے میدان میں ثابت کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا دعائے مباہلہ تھی جس کے لئے مولوی ثناء اللہ صاحب کی منظوری کی ضرورت تھی۔لیکن مولوی ثناء اللہ نے لکھا یہ طریق مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے۔پس چونکہ وہ مقابلہ پر نہ آئے اور اپنے مقرر کردہ معیار کے مطابق کہ خدا جھوٹے اور مفتری کو لمبی عمر دیتا ہے زندہ رہے اور مفتری بنے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسلیمہ کذاب کا زندہ رہنا مثال کے طور پر بیان کر کے خود مسیلمہ کذاب بنے۔عبداللہ صاحب بجائے اس کے کہ ان دلائل کا جواب دیتے ادھر اُدھر کے حوالے بے محل و بے موقع پڑھتے رہے اور ساتھ نہایت لغو عشقیہ اشعار بھی سناتے رہے۔علاوہ ازیں بداخلاقی کا مظاہرہ بھی جاری رکھا۔صاحب صدر نے (جو ایک معزز غیر احمدی تھے ) بار بار روکا مگر عبداللہ صاحب عادت سے مجبور تھے آخری دم تک شرافت کی مٹی پلید کرتے رہے۔ان کی اس حرکت کو مجلس کے شریف لوگوں نے بھی محسوس کیا۔بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ کبھی کہتے کہ یہ مرزا صاحب کی یکطرفہ دعا تھی اور اس دعا پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے گورنمنٹ کو توجہ دلائی۔جب دریافت کیا گیا کہ یہ محض دعا ہی تھی تو حکومت کو توجہ دلانے کی غرض ؟ تو فوراً کہہ دیا کہ یہ مولوی صاحب کی موت کی پیشگوئی تھی اور جب کہا گیا کہ اگر یہ موت کی پیشنگوئی تھی تو مولوی ثناء اللہ نے کیوں لکھا تھا کہ یہ پیشگوئی نہیں ہے۔تو ارشاد فرمایا یہ تو محض دھوکا تھا۔نہ یہ دھاتھی نہ پیشنگوئی۔اور پھر کہنے لگے۔مولوی ثناء اللہ اپنے لئے موت کی تمنا کیوں کرتے ؟ وہ تو پکے مومن تھے۔موت کی تمنا تو کا ذب کیا کرتے ہیں۔اس جہالت پر علمائے اہلحدیث جو موجود تھے وہ بھی چوکنے ہو گئے۔جب کہ جناب مولوی ابو العطاء صاحب نے قرآن پاک کی آیت وَلا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيْهِمْ (جمعه (۸) پڑھ کر فرمایا۔خدا تو فرماتا ہے کہ کا فرموت کی تمنا ہر گز نہیں کرتے آپ کی مانیں یا قرآن مجید کی۔مگر مولوی عبداللہ صاحب معمار کو قرآن دانی سے کیا تعلق۔آیات قرآنی غلط پڑھ پڑھ کر غلط مفہوم پیش کرتے رہے۔اگر چہ اہلحدیث کے بڑے مولوی محمد اسماعیل صاحب بار بار تھے دیتے رہے لیکن ریت کی دیوار کو کب تک قائم رکھا جا سکتا ہے۔دوران مناظرہ ہمارے مولوی صاحب نے بیان فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہر جھوٹا سچے نبی کی زندگی میں نہیں مرتا بلکہ جو مفتری مباہلہ میں سچے نبی کے مقابل پر آتا ہے وہ ضرور مر جاتا ہے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ حوالہ پڑھنا شروع کیا تو درمیان میں ہی عبد اللہ صاحب نے شور مچادیا کہ یہ الفاظ ہی نہیں۔غلط پڑھ رہے ہیں۔جو کچھ پڑھ رہے ہیں لکھا