حیاتِ خالد — Page 199
حیات خالد 205 مناظرات کے میدان میں معلوم ہوا کہ مولوی محمد بخش شاہ جس کا ارزوئے شرائط مباہلہ میں شامل ہونا از بس ضروری تھا وہ مباہلہ میں شمولیت سے گریز کر رہے ہیں بلکہ دیگر لوگ جن کے نام فہرست میں تھے ان میں بھی سوائے دو تین کے باقی سب غیر مستعد ہیں تو اس سے تعجب ہوا اور محمد بخش شاہ صاحب کو جو اسی جگہ موجود تھے بہت آمادہ کیا گیا مگر وہ بالکل تیار نہ ہوئے۔آخر کار دونوں فریق کی طرف سے مندرجہ ذیل دستخطی تحریر میں ایک دوسرے کو دی گئیں۔میں اللہ بخش حکیم اور سردار محمد اجمل خان اور مولوی بشیر احمد صاحب اور امام غیر احمدیوں کی تحریر بخش خان ملغانی اور عبدالرحمن خان ملغانی حسب استدعاء جماعت احمدیہ شرمط نمبر ہ کا کچھ حصہ منسوخ کرتے ہیں کیونکہ جماعت احمدیہ نے اپنی غلطی کا اظہار کرتے ہوئے خواہش ظاہر کی ہے کہ اہل سنت والجماعت اس شرط کو منسوخ کریں۔لہذا ہم پانچ آدمی فراخ دلی سے منظور کرتے ہیں اور مباہلہ کرنے کو تیار ہیں۔فقط (۲۷ اپریل ۱۹۳۶ء) نوٹ: شرط نمبر ۵ کا حسب ذیل فقر و منسوخ تصور ہوگا باقی بحال ہے۔اگر ہر دو فریق مذکورہ بالا عذاب و امراض وغیرہ مذکورہ بالا سے محفوظ رہ جاویں تب بھی احمدی جھوٹے تصور ہو نگے اللہ بخش حکیم بقلم خود محمد اجمل بلوچ بقلم خود - عبدالرحمن بقلم خود۔امام بخش بقلم خود، بشیر احمد عفی عنہ صدر انجمن انصار المسلمین مقیم پسرور ضلع سیالکوٹ ہم افراد جماعت احمد یہ جن کے نام نیچے ثبت ہیں۔شرائط مباہلہ میں سے شرط احمدیوں کی تحریر نمرہ کے الفاظ اگر ہر دوفریق مذکور و بالا عذاب و امراض و غیرہ مذکورہ بالا سے محفوظ رہ جاویں تب بھی احمدی جھوٹے تصور ہوں گے کو خلاف شریعت سمجھتے ہیں۔اس حصہ شرط کے تعین میں ہم نے غلطی کی تھی اب چونکہ ہمارے مد مقابل پانچ اشخاص نے اہلسنت والجماعت میں سے اس حصہ کو منسوخ کر کے باقی جملہ شرائط پر مباہلہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اس لئے ہم ان سے اس طریق پر مباہلہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔اور آج مورخہ ۲۷ / اپریل ۱۹۳۶ء کو ہیرو شرقی میں یہ مباہلہ کر رہے ہیں۔رَبَّنَا افْتَحُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ آمِينَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ سردار فیض اللہ خان ، گل محمد خان ، سردار امیر محمد خان، غلام قادر احمدی بقلم خود، مولوی محمد خان مولوی فاضل۔ان تحریروں کے بعد دونوں طرف سے مباہلہ کرنے والے سردار غلام حسین خان صاحب ٹائم کیپر اور خاکسار ایک کمرہ میں آخری اتمام حجت کیلئے گئے۔پہلے حکیم اللہ بخش صاحب نے چند سوال کئے۔