حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 182 of 923

حیاتِ خالد — Page 182

حیات خالد 188 مناظرات کے میدان میں قریبی گاؤں کے ایک گوجر کی لاٹھی سے پھگلہ کے سید عبدالرحیم شاہ زخمی ہو گئے ہیں تو اس نے شور مچادیا کہ اے پھگلہ کے لوگو! تمہارے سید کو فلاں گاؤں کے گوجر مار گئے ہیں۔یہ آواز بلند ہوئی تھی کہ سارا ریلہ ان گوجروں کی طرف ہو گیا۔ایک لمحہ کے اندر اندر یوں ہوا کہ وہ لوگ جو احمد یوں کو قتل کرنے کے لئے آئے تھے بھاگتے نظر آئے۔وہ ایک دوسرے کے پیچھے دوڑ رہے تھے۔پھگلہ والوں نے سید عبدالرحیم شاہ صاحب کو لاٹھی مارنے والے شخص کو نیچے نالہ میں قریبا دو اڑھائی فرلانگ کے فاصلہ پر جا پکڑا اور خوب ماراحتی کہ مشہور ہو گیا کہ شاید وہ مر گیا حالانکہ مرا نہیں تھا۔ہم اس میدان میں کھڑے قدرت خداوندی کا نظارہ دیکھ رہے تھے۔سب مولوی میدان سے بھاگ چکے تھے۔صرف احمدی ہی اس جگہ موجود تھے۔اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید کا یہ عجیب واقعہ تھا۔میری طبیعت پر سید عبدالرحیم شاہ صاحب کے میری جگہ لاٹھی اپنے سر پر لینے کا بڑا اثر تھا اور آج تک قائم ہے۔اس کے بعد میں جب فلسطین گیا تب بھی اس واقعہ کی وجہ سے ان سے سلسلہ خط و کتابت جاری رہا۔گزشتہ سال (جولائی ۱۹۷۰ء) مجھے عزیزم مولوی محمد الدین صاحب مربی سلسلہ احمدیہ کی معیت میں ایبٹ آباد اور پھگلہ جانے کا موقع ملا۔برادرم سید محمد بشیر صاحب پسر سید عبدالرحیم شاہ صاحب ہمیں ایبٹ آباد سے مانسہرہ اور پھر پھگلہ لے گئے۔ایک دن رات ہم نے پھگلہ میں احباب کے درمیان گزارا۔محترم سید عبدالرحیم شاہ صاحب نے گزرے ہوئے واقعات سب کے سامنے بڑی محبت سے سنائے اور بار بار کہا کہ میں حیران تھا کہ میں نے جب بھی مولوی صاحب ( خاکسار) سے اس وقت کہا کہ لوگ آمادہ فساد ہیں ہمیں حفاظت کا انتظام کرنا چاہئے تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ اب انتظام تو اللہ تعالیٰ نے ہی کرنا ہے ہم کیا کر سکتے ہیں یہاں سے جانے کا بہر حال کوئی سوال نہیں ہے۔اس قیام کے آخر پر ہم نے وہ مقام بھی دیکھا جہاں اب سکول بن چکا ہے۔مجھے سید عبدالرحیم شاہ صاحب سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔اللہ تعالی ان کی عمر میں برکت دے اور ان کی اولاد پر خاص فضل نازل فرمائے۔آمین (الفرقان ربوہ: جنوری ۱۹۷۱ء : صفر ۴ ۵ تا ۵۶) مراسلات کے عنوان کے تحت مکرم شاہ عالم صاحب سیکرٹری انجمن احمد یہ جہلم کی درج ذیل رپورٹ شائع ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت اور جہلم میں غیر مبائعین سے کامیاب مناظرہ کفر و اسلام کے مسئلہ پر جماعت احمدیہ