حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 181 of 923

حیاتِ خالد — Page 181

حیات خالد 187 مناظرات کے میدان میں ایک کے بعد دوسرے دوست نے آ کر یہی ترغیب دی۔جماعت احمد یہ پھگلہ کے صدر محترم سید عبد الرحیم شاہ صاحب کو دوستوں نے اس طرف توجہ دلائی۔انہوں نے مجھے حالات سے اطلاع دی۔میں نے کہا کہ جانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔جب غیر احمدی مولوی ہجوم کو لے کر مقام مناظرہ کی طرف آرہے تھے تو ان کے اطوار صاف بتا رہے تھے کہ وہ لوگ مناظرہ کیلئے نہیں بلکہ مقاتلہ کیلئے آرہے ہیں۔محترم سید عبدالرحیم شاہ صاحب نے خطرہ کو بھانپ کو پھر توجہ دلائی میں نے پھر وہی جواب دیا۔تیسری مرتبہ ان کے کہنے پر بھی میرا وہی جواب تھا۔ہاں ہم نے اتنی احتیاط ضرور کر لی تھی کہ مناظرہ کی کتب جو پہلے پھیلا کر میز پر رکھی ہوئی تھیں انہیں محفوظ کر لیا تھا۔اس وقت موت یقینی نظر آ رہی تھی۔میرے ہاتھ میں اس وقت بھیرہ کی بنی ہوئی بید کی خوبصورت چھڑی تھی جو مجھے اپنے بزرگوار حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب ہو تالوی کی طرف سے میری شادی کے موقعہ پر ملی تھی۔میرے دل میں اس وقت یہ حسرت تھی کہ دفاع کا کوئی انتظام نہیں تا ہم اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ہم سب تیار بیٹھے تھے کہ اللہ تعالی کی راہ میں جو پیش آئے ہم اسے برداشت کریں گے۔مخالف ہجوم میں لاٹھی تو قریباً ہر دیہاتی کے ہاتھ میں تھی۔بہت سے لوگوں کے پاس کلہا ڑیاں بھی تھیں۔غیر احمد می مولوی صاحبان نے ہجوم کے ساتھ ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا اور ایک مولوی صاحب نے کھڑے کھڑے مجھ سے یوں خطاب کیا کہ آپ لوگ مناظرہ نہیں کرنا چاہتے ؟ میں نے کہا کہ کیوں نہیں چاہتے ہم تو مناظرہ کرنے کیلئے آئے ہیں۔یہ کتابوں کے ٹریک کس لئے ہیں؟ اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ ہم پہلے مرزا صاحب کی صداقت پر مناظرہ کریں گے۔میں نے کہا ہمیں منظور ہے۔ابھی مناظرہ شروع ہو جاتا ہے میرے دل میں آیا کہ چلو پہلی تقریر میں پیغام حق تو پہنچا دیا جائے گا بعد میں تو یہ لوگ اغلبا فساد برپا کر دیں گے۔مولوی صاحب کہنے لگے کہ پہلی تقریر ہم کریں گے۔میں نے کہا کہ اصول کے مطابق پہلی تقریر مدعی کی ہوتی ہے۔ہم صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مدعی ہیں اس لئے پہلی تقریر ہماری ہوگی۔اس مرحلہ پر ہجوم میں شور اٹھا اور اشتعال انگیز نعرہ کے ساتھ ایک دیہاتی لاٹھی لے کر میرے سر پر مارنے کیلئے آگے بڑھا۔میرے ساتھ محترم سید عبدالرحیم شاہ صاحب کھڑے تھے انہوں نے لاٹھی کو دیکھ لیا اور آگے بڑھ کر روکنا چاہا مگر وہ لاٹھی ان کے ماتھے پر لگی۔خون زور سے بہنے لگا اور ہنگامہ کی صورت پیدا ہو گئی۔اس موقع پر اللہ تعالی کا عجیب نشان ظاہر ہوا۔پھگلہ کے ایک غیر احمدی سید نے جب یہ دیکھا کہ