حیاتِ خالد — Page 180
حیات خالد 186 مناظرات کے میدان میں مد مقابل مولوی عبدالحنان صاحب ہزاروی تھے۔اس مباحثہ کا آغاز نہایت پُر لطف طریق پر ہوا تھا۔میں نے اپنی تقریر کے شروع میں آیت قرآنی کی تلاوت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر مریم مر گیا حق کی قسم بآواز بلند پڑھا۔ابن داخل جنت ہوا وہ محترم اس پر مخالف مولوی صاحب نے کہا کہ یہ شعر اس لئے غلط ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات یافتہ بھی مان لیا جائے تب بھی یہ کہنا غلط ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو چکے ہیں۔جنت میں تو ابھی کوئی بھی داخل نہیں ہوا۔اس پر میں نے فورا مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے؟ مولوی صاحب نے کہہ دیا کہ ہاں ابھی تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جنت میں داخل نہیں ہوئے۔میں نے قرآن مجید ہاتھ میں لے کر پُر زور لہجہ میں کہا کہ میں اس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس نے یہ قرآن مجید نازل کیا ہے کہ ہم احمدیوں کے عقیدہ کے رو سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنت کے بلند ترین مقام میں داخل ہیں۔اس قسم کے بعد میں نے کہا کہ بھائیو! ایک طرف مولوی صاحبان کا یہ عقیدہ ہے جو ابھی آپ نے مولوی عبدالحنان صاحب کے منہ سے سنا ہے اور ایک طرف ہمارا عقیدہ ہے جو میں نے ابھی حلفاً بیان کیا ہے اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ رسول کریم ﷺ کی عزت و عظمت کو کون مانتا ہے ؟ شروع مناظرہ میں ہی اس واقعہ سے سامعین پر بڑا گہرا اثر ہوا۔اس مناظرہ اور دیگر مناظرات میں بھی اللہ تعالیٰ کی خاص تائید شامل حال رہی اور اس پہاڑی علاقہ میں احمدیت کا خوب چرچا ہوا۔فالحمد للہ علی ذالک۔بالاکوٹ کے بعد پھگلہ میں مناظرہ مقرر تھا۔یہ مناظرہ جمعہ کے روز ہونے والا تھا۔مقام مناظرہ ایک کھلی جگہ گاؤں سے کچھ فاصلہ پر عین اس سڑک پر واقع تھا جو مانسہرہ سے بالا کوٹ کو جاتی ہے۔مناظرہ کا وقت نماز جمعہ کے بعد مقرر ہوا۔ہم نے اس جگہ پر نماز جمعہ ادا کی۔احمدیوں کی تعداد تھیں چالیس ہوگی۔غیر احمدی جم غفیر کی صورت میں نیچے وادی میں پانی کے نالہ کے پاس نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے گئے۔خطبہ جمعہ میں مولوی غلام غوث صاحب نے عوام کو سخت اشتعال دلایا۔سامعین میں احمدیوں کے بعض رشتہ دار اور ہمدرد بھی تھے انہوں نے وہاں سے جلد آ کر اپنے احمدی رشتہ داروں کو بتایا کہ مناظرہ وغیرہ تو ہو گا نہیں فساد اور کشت و خون ہو گا۔بہتر ہے کہ آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں۔