حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 161 of 923

حیاتِ خالد — Page 161

حیات خالد 167 مناظرات کے میدان میں ہے؟ اس نے تو پہلی ہی تقریر میں لاہوریوں کے ہوش اڑا دیے۔پھر لاہور یوں کی باری آئی۔پھر گھنٹی بجی یہ جوان پھر گر جنے لگا۔یہاں تک کہ لاہوری شرم سے سرنگوں ہو گئے۔پھر جب گھنٹی بھی تو اب مولوی عبد اللہ وکیل کے بولنے کی باری تھی۔انہوں نے تقریر کی بجائے لوگوں کو بھڑ کانے کا کام شروع کر دیا اس وقت خلیفہ عبدالرحیم نے پولیس والوں کو حکم دیا کہ اگر یہ لوگوں میں فتنہ کھڑا کرتے ہیں تو ان کو گرفتار کر لو یہ سنتے ہی لا ہوری بھاگ گئے۔اب سنئے پروفیسر محمد اسماعیل صاحب کا کمال۔ادھر مقرر کی زبان سے بات نکلتی اُدھر وہ کتاب کا صفحہ پیش کر دیتے۔سینکڑوں حوالے وہ اتنی جلدی پیش کرتے کہ ہمیں کچھ جادو جیسا دکھائی دیا۔بھلا ان کو ان تمام کتابوں کے صفحے اور سطریں تک کیسے فورا مل جاتی تھیں !! اس مناظرے سے میں حضرت مولوی ابو العطاء صاحب کا گرویدہ ہو گیا۔محترم چوہدری عطاء اللہ صاحب مرحوم سابق مناظره چک ۳۳ جنوبی ضلع سرگودھا پروفیسر ٹی آئی کالج ر بود سابق ناب ناظر بیت المال ربوہ نے تحریر فرمایا: ۱۹۲۹ء میں چک نمبر ۳۳ جنوبی ضلع سرگودھا میں ایک معرکۃ الآراء مناظرہ ہوا۔یہ مناظرہ گاؤں سے باہر ایک کھلے میدان میں ہوا۔پر فضا سایہ دار مقام تھا جسے دیہات میں ذخیرہ کہا جاتا ہے۔اس موقعہ پر خاکسار کو پہلی بار حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کو دیکھنے اور ان کی تقریر سننے کا موقع ملا۔اس وقت خاکسار چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔مجھے بخوبی یاد ہے کہ محترم ملک عبدالرحمن صاحب خادم گجراتی نے سلیج کے قریب میز کرسی لگارکھی تھی اور کتب و رسائل کے ساتھ بیٹھے نوٹ لے رہے تھے۔میں نے لوگوں کو یہ کہتے سنا یہ لڑکا (خادم صاحب) نویں جماعت کا طالب علم ہے۔گجرات کے محترم بابو برکت علی صاحب اس کے والد ہیں اور یہ مناظر بننے کی تیاری کر رہا ہے۔خیر ذکر ہو رہا ہے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کا۔دوران مناظرہ حضرت مولانا نے جب انتہائی روانی سے تقریر فرمائی تو میں نے غیر احمدی احباب کو کہتے سنا کہ اس عالم کی تقریر سمجھ میں آئی۔ہے۔اس پر ہمارے احمدی احباب نے ان کو کہا کہ یہ تو ایک گوہر نایاب ہے ابھی نو خیز ہے یہ بہت ترقی کرے گا۔اس مناظرہ میں دیگر علماء کرام حضرت مولوی محمد یا ر صاحب عارف ، حضرت مولانا غلام احمد