حیاتِ خالد — Page 154
حیات خالد 160 مناظرات کے میدان میں دوسری طرف یہ فرمایا وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلاً پس اس سے بھی آخری زمانہ میں ایک رسول کا مبعوث ہونا ظاہر ہوتا ہے اور وہی مسیح موعود ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۰) (۴) '' مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۱۳) ضمنا یہ ذکر کر دوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں میر مدثر شاہ صاحب کا بھی یہی مذہب تھا ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں۔قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الذِين كُله اس آیت کو مفسرین نے مسیح موعود علیہ السلام کے حق میں تسلیم کیا ہے اور اس رسول سے مراد وہی رسول ہے جو اس سے پہلے آیت مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُهُ أَحْمَدُ میں مذکور ہے۔پس ان دونوں آیتوں کو ملانے سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود کا نام احمد ہے جس کے مصداق آج جناب مرزا صاحب ہیں۔(الحکم ۳۱ / اگست ۱۹۰۳ء) (۵) یہ ضرور یا درکھو کہ اس اُمت کیلئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پاچکے ہیں۔پس من جملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔لیکن قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُول سے ظاہر ہے۔پس مصفی غیب پانے کیلئے نبی ہونا ضروری ہوا۔اور آیت انْعَمْتَ علَيْهِمْ گواہی دیتی ہے کہ اس مصلی غیب سے یہ امت محروم نہیں اور مصلی غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے۔ایک غلطی کا ازالہ۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۹ حاشیہ) طوالت کے خوف سے میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔کیا پیغام صلح" کا " صداقت شعار " راوی بتا سکتا ہے کہ میر صاحب نے ان کا کچھ جواب دیا تھا۔صرف خاتم النبیین کیلئے انجام آتھم ، ازالہ اوہام وغیرہ کتب کے حوالہ جات پڑھتے رہے تھے۔جن کا بار بار جواب دیا گیا کہ ان تمام مقامات پر شریعت