حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 142 of 923

حیاتِ خالد — Page 142

حیات خالد 148 مناظرات کے میدان میں پہلا مناظرہ امکان نبوت بعد آنحضرت علہ از روئے قرآن وحدیث تھا۔ڈاکٹر امکان نبوت صاحب گھر سے کئی دنوں کی محنت کے بعد ایک مضمون لکھ کر لائے۔مناظرہ اگلے روز رات کے ساڑھے نو بجے شروع ہوا۔مولوی اللہ دتا صاحب نے پہلے تقریر کی اور امکان نبوت بعد از آنحضرت ﷺ کے ثبوت میں آیات قرآنی اور احادیث پیش کیں۔ماشاء اللہ آپ کی تقریر نہایت برجستہ تھی۔سمجھ دار اور اہل علم طبقہ آپ کی تقریر سے مستفید و محظوظ ہوا۔جب ڈاکٹر صاحب کا وقت آیا تو انہوں نے بجائے اس کے کہ مولوی صاحب کے بیان کردہ دلائل کو رد کرتے وہ مضمون سنانا شروع کر دیا جو گھر سے لکھ کر لائے تھے۔آخر وقت تک ڈاکٹر صاحب نے مولوی صاحب کے دلائل کو نہ چھوا دوران مضمون میں لوگوں کے جذبات کو بھڑ کانے کی سعی نا کام کرتے رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام بے ادبی سے لیتے رہے۔مباحثہ کا نتیج اس مباحثہ کا نتیجہ ایک فقرہ میں ادا ہو سکتا ہے۔وہ یہ کہ غیر احمدی دوستوں نے نتیجہ نکالا کہ ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب احمدیت سے دستبردار ہو کر ان کے ساتھ مل گئے ہیں۔چنانچہ ایک صاحب نے ڈاکٹر صاحب سے معانقہ کیا اور کہا آج سے ہم بھائی بھائی بن گئے۔پھر انہوں نے ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب کو دعوت دی کہ وہ جمعہ کی نماز غیر احمدیوں کے پیچھے پڑھیں۔انہوں نے کچھ نیم سا اقرار بھی کیا مگر ان کی جماعت کے بعض دوستوں نے اس کے خلاف رائے دی اور ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب نے بعض عذرات لنگ پیش کر کے اس پیالہ کو ٹال دیا۔اس سے غیر احمد یوں پر اور بھی برا اثر پڑا اور انہوں نے اقرار کیا کہ یہ لاہوری پارٹی واقعی منافق ہے اور اس کے کھانے کے دانت اور ہیں دکھانے کے اور۔مناظرہ کے دوران میں ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب کی کم علمی کی حقیقت بھی لوگوں پر واضح ہو گئی۔آپ نے جر ندی کا لفظ کر ندی پڑھا اور قرآن کی آیات اور احادیث اکثر غلط پڑھتے۔مناظرہ کے بعد کئی لوگوں نے ہم سے ذکر کیا کہ ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب ایک نہایت کم علم آدمی ہیں اور اکثر نے ان کے علم کے متعلق کئی ایک ریمارکس پاس کئے۔مگر ہم پسند نہیں کرتے کہ ان ریمارکس کو یہاں نقل کریں۔دوسرا مناظرہ حضرت مسیح موعود کا دعوی نبوت ڈاکٹر محمد حسین کا فرار اور بد اخلاقی از روئے تحریرات حضرت مسیح موعود تھا۔ہم نے اگلے روز رقعہ دے کر اپنے دو آدمیوں کو ڈاکٹر صاحب کی کوٹھی پر بھیجا کہ دوسرا مناظرہ کب اور کہاں ہوگا؟