حیاتِ خالد — Page 13
حیات خالد 13 خلفائے احمدیت کے مبارک ارشادات حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمہ اللہ تعالٰی نے خطبہ جمعہ فرمودہ ۴ اکتوبر ۱۹۶۶ء میں احمدیت کے تین خالدوں کے ذکر کے بعد حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کی وفات کے حوالہ سے فرمایا :- اب ان تینوں دوستوں میں سے جنہیں اُس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خالد قرار دیا تھا دو اپنے رب کو پیارے ہو چکے ہیں۔تیسرے کی زندگی اور عمر میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالے اور لمبا عرصہ انہیں خدمت دین کی توفیق عطا کرتا رہے اور اللہ تعالی ان کے لئے یہ مقدر کرے کہ وہ بے نفس ہو کر اور دنیا کی تمام ملونیوں سے پاک ہو کر خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے وقت کو اور اپنے علم کو اور اپنی قوتوں کو خرچ کرنے والے ہوں"۔0 سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ اور الفضل ربوه ۱۹ / اکتوبر ۱۹۶۶ء صفحه ۵) بعد حضرت خلف المیت مولانا رحمہ اللہ تعالی کے وصال کے نے خطبہ جمعہ میں فرمایا:- "ہمارے لئے دوصد مے اوپر نیچے آئے۔پہلے حضرت نواب مبار کہ بیگم ہماری محترمہ پھوپھی جان کی وفات ہوئی اور پھر چند دن کے بعد محترم ابوالعطاء صاحب کی وفات ہوئی۔اس قسم کی ہستیاں ، اس قسم کے وجود ہمارے لئے نمونہ بنتے ہیں اور بنیادی چیز جس میں وہ ہمارے لئے نمونہ بنتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ خدائے رحمن سے منہ موڑنے والے نہیں ہوتے۔انہوں نے کبھی بھی ان چیزوں کو اپنی کسی خوبی کا نتیجہ نہیں سمجھا بلکہ خدا تعالی کے ہر فضل کے بعد جو احساس ان کے دل میں پیدا ہوا وہ یہی تھا کہ میری کسی خوبی کا نتیجہ نہیں محض خدا تعالی کی عطا ہے۔میں ہر دو کے متعلق بات کر رہا ہوں یعنی نواب مبار کہ بیگم صاحبہ اور ابوالعطاء صاحب کے متعلق ان کے رونگٹے رونگٹے سے یہ آواز نکلی کہ لا فنح۔۔۔دونوں جانے والوں کی زندگیاں ہمارے لئے نمونہ ہیں۔ابو العطاء صاحب نے بھی بالکل جوانی کی عمر سے ہی خدا تعالیٰ کی راہ میں خدمت شروع کی اور آپ ایک بے نفس انسان تھے۔۔۔خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۷۷ء، مطبوعہ الفضل ربوه ۲۹ جون ۱۹۷۷ء صفحه ۲ تا ۴ )