حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 136 of 923

حیاتِ خالد — Page 136

حیات خالد 142 مناظرات کے میدان میں سے ٹیم کذاب کی پیشگوئی پیش کی گئی۔جس کو سنتے ہی آپ کا چہرہ سیاہ ہو گیا۔کیوں نہ ہوتا۔آپ بیتی تھی۔آپ نے یہ کہا کہ آتما رام مرزا صاحب کو چار چار گھنٹے پانی نہ پینے دیتا تھا۔یہ مرزا صاحب کی بڑی بے عزتی تھی لیکن جب ہمارے مولوی صاحب نے پوچھا کہ اگر یہی عزت وذلت کا معیار ہے تو کیا آپ کے نزدیک حضرت امام حسین کی ذلت ہوئی تھی جو آپ کو یزیدی فوج نے پیاس کی حالت میں تڑپا تڑپا کر شہید کیا تھا تو مولوی کرم دین صاحب حیران رہ گئے۔مولوی کرم دین صاحب کی تمام شیخیاں کرکری ہو گئیں اور وقت پورا کرنے سے قبل ہی دم بخود ہو گئے۔الحمد للہ کہ اس مباحثہ کا بہت اچھا اثر ہوا اور تبلیغ کیلئے ایک عمدہ اور زرخیز زمین پیدا ہوگئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے چاہا تو جلد یہ بیج بار آور ہو گا۔ہم انجمن نظام المسلمین پٹھانکوٹ کا دلی شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہر ممکن طرح سے اچھا انتظام کیا اور مرزا عبدالحق صاحب بی۔اے۔ایل ایل بی وکیل پریذیڈنٹ انجمن احمد یہ گورداسپور بھی شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔خاکسار عبدالکریم ناقد۔سیکرٹری تبلیغ انجمن احمد یہ پٹھانکوٹ اخبار الفضل قادیان دار الامان : مورخه ۲۱ / دسمبر ۱۹۲۸ء صفحه ۷-۸) ینگ مین آریہ ایسوسی ایشن گجرات آریہ سماج گجرات سے تناسخ پر مباحثہ ۱۹۲۹ء کی طرف سے اشتہار شائع ہوا کہ ۱۵/جنوری ۱۹۲۹ء کو بوقت ساڑھے سات بجے شام آریہ سماج میں مسئلہ تاریخ پرلیکچر ہوگا اور لیکچر کے بعد ایک گھنٹہ تک سوال و جواب یعنی بحث کا موقع دیا جائے گا۔علاوہ تحریری اشتہار کے آریہ صاحبان نے بازار میں زبانی بھی یہ مشہور کیا کہ شام کو احمدیوں سے مسئلہ تاریخ پر بحث ہوگی۔احمد یہ جماعت کے کچھ ممبر مولوی اللہ و تا صاحب جالندھری کے ہمراہ وقت مقررہ پر آریہ سماج کے مندر میں پہنچ گئے۔احمدیوں کے علاوہ دیگر مسلمانوں کی بھی کافی تعداد موجود تھی۔آریہ مناظر نے قریبا ایک گھنٹہ مسئلہ تاریخ پر لیکچر دیا۔آریوں نے خلاف معمول جلسہ کا کوئی پریذیڈنٹ مقرر نہ کیا جس کی وجہ بعد میں یہ معلوم ہوئی کہ وہ کسی نظام کے ماتحت گفتگو نہیں کرنا چاہتے تھے۔سیکرٹری آریہ ایسوسی ایشن نے کہا پہلی دو تقریریں ۱۵، ۱۵ منٹ کی ہوں گی اور بعد میں ۵٫۵ منٹ کی۔اس کے بعد سید عمر شاہ صاحب اہل قرآن نے کہا کہ اصل معاملہ جزا و سزا کا ہے۔اس کو دونوں فریق مانتے ہیں۔اس کے بعد آریہ صاحبان نے مولوی اللہ دتا صاحب کو ۱۵ منٹ دیئے۔مولوی صاحب نے اپنی تقریر میں آریہ مناظر کے پیش کردہ دلائل کی