حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 134 of 923

حیاتِ خالد — Page 134

حیات خالد 140 مناظرات کے میدان میں اجازت دیں تو میں وہاں دفن ہو جاؤں۔حضرت عائشہ نے فرمایا "لا وُلِرَتْهُ الْيَوْمَ عَلَى نَفْسِي میں آج حضرت عمر کو اپنے نفس پر ترجیح دیتی ہوں۔یعنی میں نے یہ جگہ اپنے لئے رکھی ہوئی تھی مگر آج آپ کیلئے ایثار کرتی ہوں۔لیکن اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جگہ حضرت عمرہ کیلئے مقرر کر رکھی تھی تو یہ پیغام بھیجنے کے کیا معنی؟ اور حضرت عائشہؓ کے ایثار کا کیا مطلب؟ سوم : اس حدیث کو ظاہر پر محمول نہیں کیا جا سکتا ورنہ آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک کو پھاڑ کر حضرت مسیح کو وہاں دفن کرنا ہوگا تا يُدْفَنُ مَعِيَ فِي قَبْرِی ہو سکے۔۔چهارم: المؤطا امام مالک کتاب الجنائز میں حضرت عائشہ کی رویا ثَلَاثَةُ أَقْمَارٍ 66 مندرج ہے۔پس اس حجرہ میں چوتھے چاند کی گنجائش نہیں۔ورنہ رو یا غلط ہو جائے گی۔پنجم : اس جگہ روحانی قبر مراد ہے جس کا ذکر آیت ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ (عبس:۶۲) میں موجود ہے۔دوسرے اعتراض لَيُهِنَّ ابْنُ مَرْيَمَ کے متعلق مولوی صاحب نے فرمایا جس مسلم شریف میں حضرت مسیح کے حج کرنے کیلئے احرام باندھنے کا ذکر کیا گیا ہے اس میں حضرت یونس اور حضرت موسیٰ کے احرام باندھنے اور لبیک لبیک کہتے ہوئے حج کیلئے جاتے ہوئے دیکھنے کا بھی ذکر ہے گویا یہ پہلے مسیح کے متعلق ہے۔اس سے حضرت مسیح موعود پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اور اگر اس کو آنے والے موعود کی علامت سمجھا جائے تو بخاری شریف کی حدیث سے جہاں طواف بیت اللہ کا ذکر ہے یہ صاف کھل جاتا ہے کہ یہ ایک کشفی نظارہ ہے۔جس کی تعبیر امام محمد طاہر نے مجمع النجار میں خدمت اسلام کی ہے اور حضرت مرزا صاحب نے بقول مولوی محمد حسین بٹالوی بھی بے نظیر خدمت اسلام کی ہے۔لہذا دونوں طرح سے اعتراض باطل ہے۔سلطان محمد کے نہ مرنے کی وجہ انجام آتھم کے مندرجہ بالا الفاظ میں بتا دی گئی۔غرض مولوی ثناء اللہ کے اعتراضات کے جواب احمدی مناظر نے نہایت شرح وبسط سے دیئے یہاں تک کہ بعض تعلیم یافتہ ہندوؤں تک نے اقرار کیا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اب وقت پورا کرنے کیلئے صرف انہی اعتراضات کو بار بار پیش کر رہے ہیں۔مولوی شاء اللہ صاحب نے قبر کو مقبرہ کے معنوں میں بیان کیا مگر جب لغت کا حوالہ طلب کیا گیا بلکہ بار بار چیلنج دیا گیا تو مولوی صاحب کو سخت شرمندہ ہونا پڑا۔سلطان محمد کے اشتہار کے متعلق کہا کہ میں نے اہلحدیث مارچ ۱۹۲۴ء میں اس کے الفاظ شائع کروا دئیے ہیں کہ میں نہیں ڈرا۔یہ بھی کہا کہ میں نے سلطان محمد سے پو چھا کہ مرزائی جو عکس تمہارے خط