حیاتِ خالد — Page 110
حیات خالد 116 مناظرات کے میدان میں قائم رکھا وقت کی فریقین سے پابندی کرائی اور کمال منصفانہ برتاؤ سے کام لیا۔جس کے لئے ہم ان کے شاکر ہیں۔خاکسار - محمد صالح اخبار الفضل قادیان دارالامان - ۱ ان جون ۱۹۲۶ء صفحه ۲) الفضل قادیان میں زیر عنوان’ جماعت احمد یہ مناظرہ گوجرانوالہ ۱۵، ۱۶ار تمبر ۱۹۲۶ء گوجرانوالہ کا جلسہ اس مناظرہ کی درج ذیل تفصیل شائع ہوئی۔جماعت احمد یہ گوجرانوالہ کا جلسہ بتاریخ ۱۶۰۱۵ار تمبر ۱۹۲۶ء شہر گوجرانوالہ واقع باغ مہاں سنگھ میں منعقد ہوا۔جس پر مبلغین جناب حافظ روشن علی صاحب، جناب شیخ محمد یوسف صاحب مولوی فاضل ، مولوی الله و تا صاحب مولوی فاضل ، مولوی عبد الغفور صاحب مولوی فاضل ، اور مولوی علی محمد صاحب فاضل تشریف لائے۔۔۔۔ہمارے نو جوان مبلغ مولوی اللہ دتا صاحب فاضل جالندھری نے وفات مسیح ناصری پر ایک گھنٹہ تقریر کی حاضرین پر خاص اثر تھا۔بعد تقریر ایک گھنٹہ مناظرہ منشی حبیب اللہ صاحب امرتسر کلرک دفتر نہر سے ہوا جو مقلدین کے نمائندہ تھے اور ان کے دائیں اور بائیں ہر دو گروہ کے علماء معاون و مددگار بیٹھے تھے۔اس مناظرہ کے اختتام پر ایک صاحب سید حسین شاہ صاحب مدرس موضع اروپ نے علی الاعلان کہا کہ ”میں نے حق سمجھ لیا ہے اور میں احمدیت میں داخل ہوتا ہوں۔۱۶۔تاریخ بسبب بارش پہلا اجلاس نہ ہو سکا۔دوسرا اجلاس دو بجے بعد دو پہر شروع ہوا۔پہلا مضمون ختم نبوت مولوی اللہ دتا صاحب نے بیان فرمایا ہر دو گروہ مقلد غیر مقلد کے علماء لیکچر کے وقت تشریف فرما تھے اور برابر نوٹ لیتے جاتے تھے اور بڑی مستعدی ظاہر کرتے تھے کہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔اس مضمون پر مناظرہ کے لئے مولوی محمد اسماعیل صاحب اہل حدیث کے امام کھڑے ہوئے جنہوں نے یبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ (اعراف: ۳۶) والی آیت قرآنی کا جواب دیتے ہوئے امکان نبوت کو تسلیم کر ہی لیا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک زبردست قادر ہستی یہ الفاظ ان کی زبان پر جاری کروا رہی ہے۔کیونکہ وہ حلق میں آ کر پھر گلا گھونٹ دیتے تھے۔جلسہ دعا پر ختم ہوا حاضرین جلسہ کی تعداد پانچ سو سے ڈیڑھ ہزار تک ہوتی رہی۔خدا کا بڑا شکر ہے۔بلحاظ اثر اور امن کے ہمارا جلسہ نہایت کامیاب ہوا۔الحمد للہ ثم الحمد لله