حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 109 of 923

حیاتِ خالد — Page 109

حیات خالد 115 مناظرات کے میدان میں یٹی کے اہلحدیثوں کی طرف سے تین ہفتہ قبیل از مناظرہ یہاں کی مقامی احمدی جماعت کے نام رقعے پر رھتے آرہے تھے کہ ہمارے ساتھ حضرت مرزا صاحب کے اعتقاد اور اسلام پر بحث کرو۔اور ساتھ ہی وہ اس امر پر بھی مصر تھے کہ اس مسئلہ کے سوا ہم کسی اور مسئلہ پر بحث کرنا نہیں چاہتے۔آخر ۳۰ رمئی ۱۹۲۶ ء تاریخ مناظرہ مقرر ہوئی اور اس موقع پر مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری مناظرہ کے لئے قادیان سے تشریف لائے۔مولوی عبدالرحیم لکھو والے نے جو کہ غیر احمدیوں کی طرف سے مناظر تھے۔المحد ثیوں کے مقرر کردہ مضامین پر بحث کرنے سے انکار کر دیا۔آخر کار وفات مسیح ناصری اور صداقت مسیح موعود جو احمدی جماعت کی طرف سے دو مضامین رکھے گئے۔انہوں نے بخوشی منظور کئے اور پہلے صبح ۳۰ رمئی ۱۹۲۶ء کو مسئلہ حیات و وفات مسیح ناصری پر بحث شروع ہوئی۔اس مناظرہ میں مولوی صاحب اہلحدیث قرآن مجید کی آیات کی طرف بالکل نہ آئے اور اپنے بیان میں انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول من السماء کی حدیث پیش کی۔جس کے جواب میں مولوی اللہ دتا صاحب نے بخاری شریف پیش کی کہ راوی اس حدیث کی بخاری سے سند لاتا ہے۔بخاری شریف سے من السماء کا لفظ دکھاؤ اور انعام لو۔اس مطالبہ سے بھی مولوی صاحب اخیر وقت تک عہدہ برآ نہ ہو سکے۔آخر عوام کو برانگیختہ کرنے کی مولوی صاحب نے جب سعی کی تو جناب تھانیدار صاحب نے شور بند کرا کے امن قائم کر دیا۔جس کی وجہ سے ہم ان کا شکر یہ ادا کرتے ہیں۔پھر دوسرے مضمون یعنی صداقت دھوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بر منہاج الدعوۃ پر تین بجے بعد دو پہر مناظرہ شروع ہوا اور اس کا وقت بھی دو گھنٹے تھا۔جب پہلی تقریر مولوی اللہ دتا صاحب نے شروع فرمائی تو مولوی عبدالرحیم صاحب نے اثر کم کرنے کے لئے درمیان میں بولنا شروع کر دیا۔کبھی حوالہ طلب کرتے حوالہ دیا جاتا تو اصل کتاب طلب کرتے جب کتاب دی جاتی تو درمیان میں بولنے کا کوئی اور بہانہ نکالتے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبل دعوئی زندگی کو مولوی اللہ دتا صاحب نے بطور نشان پیش کیا۔مگر فریق مخالف بار بار یہی کہے ہم قبل دھوئی پر اعتراض نہیں کرتے۔بعد دعوئی زندگی کو دیکھتے ہیں حالانکہ ان کو بار بار متوجہ کیا گیا خدا تعالی قبل دعوئی زندگی کو بطور معیار پیش کرتا ہے۔آخر پیشگوئیوں پر اعتراض کئے جن کے مفصل اور تسلی بخش جواب دیئے گئے۔پبلک پر بہت اچھا اثر ہوا۔حکیم مرزا فیض احمد صاحب احمدی نے مہمان نوازی اور انتظام جلسہ میں بہت ہمت دکھائی۔اس مناظرہ میں جناب مرزا عنایت اللہ بیگ صاحب رئیس پٹی پریزیڈنٹ تھے۔جنہوں نے اچھی طرح امن