حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 108 of 923

حیاتِ خالد — Page 108

حیات خالد 114 مناظرات کے میدان میں مومن کو کافر کہتے ہیں لہذا حدیث کی رو سے وہ کفران پر الٹ کر پڑتا ہے اس پر میں نے کہا کہ مہربانی فرما کر یہ بتائیے کہ مشہور معاندین سلسله مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے یہ لوگ مسلمان ہیں یا کافر؟ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا یہ دونوں مولوی صاحبان کا فر ہیں کیونکہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کافر کہتے ہیں؟ میں نے کہا جو لوگ ان مولویوں کو مسلمان کہیں ان کے متعلق آپ کا کیا فتویٰ ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا وہ بھی کافر ہیں کیونکہ وہ کافروں کو مسلمان کہتے ہیں اس پر میں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ! اب ان مسلمانوں سے ( ان پٹھانوں کی طرف اشارہ کر کے) پوچھ لیجئے کہ یہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو کیا سمجھتے ہیں؟ میرا اتنا کہنا تھا کہ وہ سارے پٹھان ڈاکٹر صاحب پر برس پڑے اور کہنے لگے ڈاکٹر صاحب! یہ لوگ آپ لوگوں سے ہزار درجہ اچھے ہیں کیونکہ ان میں منافقت نہیں لیکن آپ لوگ سخت دھو کا باز ہیں کیونکہ ہمیں سمجھتے کا فر ہیں لیکن کہتے مسلمان ہیں کتنا سخت دھوکا ہے! اس پر ڈاکٹر صاحب بہت کھسیانے ہوئے اور مناظرہ چند منٹوں میں ہی ختم ہو گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ محترم مولانا ابو العطاء صاحب کے اس معقول اور مدلل جواب کا جناب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ مولانا کا بہت ادب و احترام کرنے لگ گئے۔چنانچہ اس واقعہ کے پانچ چھ سال بعد جب ایک مرتبہ ۱۹۳۱ء میں مجھے بھی محترم مولانا صاحب کی معیت میں ڈیڑھ ماہ مری میں رہنے کا موقعہ ملاتو پہلی ملاقات پر ہی جناب ڈاکٹر صاحب نے مولانا کو اپنی کوٹھی پر چائے کی دعوت دی اور آپ کی بہت تعریف کی۔فَالحَمْدُ لِلهِ عَلى ذلِكَ (حیات نور صفحه ۷۲۴ تا ۷۲۶ ) مناظرہ کھڈیاں تحصیل چونیاں (۱۹۲۶ء) کھڈیاں تحصیل چونیاں کے غیر احمد ہوں کی درخواست پر آریوں سے مقابلہ کیلئے مولوی الله و تا صاحب جالندھری کو بھیجا گیا۔وہاں سے مولوی صاحب قصور پہنچیں گے۔جہاں آریہ سماج کی کا نفرنس میں مسئلہ نجات پر مضمون پڑھیں گے۔الفضل ۳۰ ر ا پریل ۱۹۲۶ء) روز نامہ الفضل قادیان سے پٹی میں غیر احمدیوں سے مناظرہ (۳۰ رمئی ۱۹۲۶ء) اس مناظرہ کا ذکر ذیل میں درج ہے۔