حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 896 of 923

حیاتِ خالد — Page 896

حیات خالد 877 گلدستۂ سیرت سے میں نے ۶۳ سال کی عمر میں قدم رکھا ہے یہ دنیا مجھے اجنبی سہی معلوم ہوتی ہے۔یہ والہانہ جذبہ فدائیت چونکہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک چشمہ سے نکلا تھا اس لئے خدائے ذو العرش کو بھی ایسا پسند آیا کہ ادھر آپ کی عمر آنحضرت کے مثالی عاشق حضرت مسیح موعود کی عمر کے لگ بھگ پہنچی اُدھر آپ کو حق تعالیٰ کی طرف سے واپسی کا بلاوا آ گیا اور آیا بھی اس مہینہ میں جس کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے روحانی پیشوا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم رب العرش کے دربار میں حاضر ہوئے تھے۔( یعنی ۲۶ مئی ۶۳۲ ء بمطابق تحقیق پروفیسر محمد شہید اللہ مرحوم مطبوعہ اخبار جنگ کراچی ۲۸ ستمبر صفحه ۷ ) آپ کا انتقال ۳۰ رمئی ۱۹۷۷ء کو ہوا اور حیرت انگیز تو ارد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک بھی دوشنبہ یعنی سوموار کو ہوا اور حضور پر نور کے ممتاز خادم کا بھی۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِكْ وَسَلَّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - برصغیر کے ایک نامور شاعر نے امام الہند ابو الکلام آزاد صاحب (۱۸۸۹ء۔۱۹۵۸ء) کو مرتیہ وفات پر ایک درد انگیز مرتبہ کہا جو اگر چہ دنیائے شعر وسخن کا ایک شاہ کار تھا مگر حقیقت میں جناب ابوالکلام کی بجائے حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جیسی برگزیدہ ہستی پر چسپاں ہوتا ہے۔اس لئے شاعر کی روح سے معذرت کے ساتھ بعض اشعار معمولی تصرف اور تقدم و تاخر کے ساتھ ہدیہ قارئین کرتا ہوں۔عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہیں آستیں نہیں ہے ز میں سے رونق چلی گئی ہے افق پر نٹس میں نہیں ہے قلم کی عظمت اُجڑ گئی ہے زباں سے زور بیاں گیا ہے اتر گئے منزلوں کے چہرے عطا نہیں کارواں گیا ہے آخر میں تحدیث نعمت کی غرض سے یہ عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خاکسار نے مدرسہ تحدیث نعمت احمد یہ قادیان کی مقدس درسگاہ میں درج ذیل بلند پایہ رفقاء مسح محمدی سے تعلیم پائی ہے:۔محدث احمدیت حضرت سید میر محمد الحق صاحب، حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری ، حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب ( مہر سنگھ ) ، حضرت ماسٹر مولا بخش صاحب، حضرت ماسٹر نذیرحسین صاحب چغتائی ، حضرت ماسٹر محمد فیل صاحب بٹالوی۔استاذی المعظم حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب صف اوّل کے کبار تابعین میں سے تھے۔مجھے ایک لمبا عرصہ سفر و حضر اور خلوت و جلوت میں آپ کی خدا نما شخصیت کو قریب سے مطالعہ کرنے کا موقع