حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 837 of 923

حیاتِ خالد — Page 837

حیات خالد 826 گلدسته سیرت کو چھوڑ نا لڑکیوں کے لئے تکلیف دہ امر ہوتا ہے۔ان کی اداسی کو دیکھ کر بہت محسوس کرتے کہ میں تو بہت دعا کرتا ہوں پھر یہ کیوں اس قدر اداس ہوتی ہیں۔خود حوصلہ دیتے۔اسی وجہ سے ان کا حوصلہ ضرب المثل تھا۔دینی کاموں میں حصہ لینے پر بے حد خوش ہوتے۔جب میں نے پہلی بار جلسہ سالانہ پر تقریر کی تو اس وقت میں بی اے کی طالبہ تھی۔میں خود حیران تھی کہ اس نو عمری میں کیسے موقع مل گیا کیونکہ خواتین کی تقاریر بہت کم ہوتی تھی۔میں نے اپنی تقریر خود ہی تیار کی اور آخری چیکنگ کے لئے ابا جان کو دی۔آپ دیکھنے کے بعد میرے پاس لائے۔ساتھ کچھ کرنسی نوٹ ننھی کئے ہوئے تھے۔بہت خوش تھے۔فرمایا یہ تمہارا انعام ہے۔تقریر کے بعد مجھے فرمایا تم میری دوسری بیٹی ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سٹیج پر پہنچی ہو۔تم سے پہلے امتہ اللہ خورشید جلسہ پر تقریر کرتی تھیں۔مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔بی اے کا امتحان دیتے ہی یہ فکر تھا کہ پتہ نہیں آگے پڑھنے کا موقع ملتا ہے یا نہیں۔مختلف رشتے زیر غور تھے۔مجھے سخت غصہ آتا کہ میں نے تو پڑھنا ہے۔کچھ کہہ بھی نہ سکتی تھی۔ابا جان ان دنوں خاص طور دعاؤں میں مصروف تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو بہت کی پیش خبریوں سے بھی نوازتا تھا۔جلسہ سالانہ ۱۹۷۶ء کے اگلے دن نکاح تھا۔جب آپ نکاح کے بعد گھر تشریف لائے تو آتے ہی میرا پوچھا۔میں اپنے کمرے میں رو رہی تھی۔فوراً میرے پاس آئے اور کتنی دیر سر پر ہاتھ رکھ کر کھڑے رہے اور تسلی دیتے رہے۔مجھے بظاہر حوصلہ دیا مگر آپ کے اپنے دل کی کیفیت یہ تھی کہ میرے بڑے بھائی عطاءالرحمن طاہر صاحب سے فرمایا۔اگر خدا اور رسول کا حکم نہ ہوتا تو میں نے اس بیٹی کی کبھی شادی نہ کرنی تھی۔میری شادی سے شاید دو ماہ پہلے کی بات ہے۔مجھے معمولی فلو اور بخار ہو گیا۔میں بستر میں لیٹی تھی۔آپ جمعہ کی نماز کے لئے تشریف لے جا رہے تھے۔میرے کمرے میں آئے اور حال پوچھا میں نے بتایا کہ کچھ زکام اور بخار ہے۔تھوڑی دیر کے بعد آپ جمعہ کے لئے چلے گئے واپسی پر سیدھے میرے کمرے میں آئے اور فرمایا۔تمہیں پتہ ہے آج میں نے نماز میں کیا دعا کی ہے؟ میں نے کہا نہیں۔فرمایا میں نے یہ دعا کی کہ اے خدا مجھ سے اس بیٹی کی تکلیف نہیں دیکھی جاتی۔مجھے اس کی کوئی تکلیف نہ دکھانا۔واقعی خدا تعالی نے آپ کو میری کوئی تکلیف نہ دکھائی۔میں آپ کے سامنے ہمیشہ مسکراتی رہی اور خوش رہی۔حتی کہ شادی کے دن جب رخصتی کا وقت آیا تو آپ نے کسی کو ملنے نہ دیا اور اچانک خود آ کر مجھے ساتھ لے