حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 832 of 923

حیاتِ خالد — Page 832

حیات خالد 821 گلدسته سیرت اللہ تعالیٰ نے آپ پر اتنا احسان کیا کہ آپ اپنی زندگی میں ہی سب بچوں کی شادیاں کر کے فارغ ہو گئے تھے۔بیٹوں کی نسبت بیٹیوں سے زیادہ پیار کرتے تھے۔فرماتے تھے کہ انہوں نے تو گھر سے رخصت ہو جاتا ہے اس لئے ان کا حق ہے کہ ان سے زیادہ پیار کیا جائے۔یہ کمزور ہوتی ہیں اور ان کے جذبات نازک ہوتے ہیں۔مكرم عطاءالرحمن طاہر صاحب نے اولاد سے حسن سلوک کے بارے میں تحریر فرمایا:- کراچی میں آپ جب بھی تشریف لاتے تو میرے ہاں قیام فرماتے۔شروع شروع میں میں کرائے کے مکان میں تھا اور جگہ کی تنگی بھی ہوتی تھی مگر آپ اس تنگی کو بخوشی برداشت کرتے اور فرماتے کہ بیٹے ! مجھے یہاں تمہارے گھر آ کر حقیقی سکون ملتا ہے۔ایک دفعہ ربوہ سے ایک وفد ڈھا کہ کیلئے روانہ ہوا۔وفد کو ایک رات کراچی میں قیام کرنا تھا۔اس میں حضرت مرزا عبدالحق صاحب قاضی محمد نذیر صاحب لایکوری اور آپ شامل تھے۔میں کراچی ایئر پورٹ پر استقبال کے لئے گیا ہوا تھا۔محترم امیر صاحب جماعت احمد یہ کراچی بھی وہاں وفد کو خوش آمدید کہنے کیلئے موجود تھے۔مجھے امیر صاحب نے بتایا کہ ہم نے علمائے کرام کے لئے رہائش کا انتظام مکرم میجر شمیم احمد صاحب کے مکان پر کیا ہوا ہے۔چونکہ صبح سویرے ان کو ڈھا کہ جانا ہے اس لئے آپ مولوی ابوالعطا ء صاحب کو جماعت کے انتظام میں ہی قیام کرنے دیں اور اپنے گھر جانے کیلئے نہ کہیں۔میں نے کہا یہ تو حضرت ابا جان کی مرضی ہے۔میں بہر صورت جماعت کے نظام میں مخل نہیں ہوں گا۔جہاز آیا اور وفد ایئر پورٹ سے باہر آ گیا۔ملاقات کے بعد امیر صاحب نے عرض کی کہ ہم نے آپ سب کا انتظام مکرم میجر شیم احمد صاحب کے ہاں کیا ہوا ہے۔وہاں سے صبح جانے کیلئے بھی سہولت رہے گی۔اس پر میرے پیارے ابا جان نے میری طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ”میرے میجر صاحب تو وہ کھڑے ہیں پھر فرمایا در اصل مجھے اپنے گھر میں ہی سہولت رہتی ہے اور آرام ملتا ہے۔چنانچہ امیر صاحب خود اپنی گاڑی میں آپ کو میرے گھر لے آئے اور صبح وہیں سے حضرت ابا جان کو ساتھ لیا اور ڈھا کہ روانہ کروا دیا۔میرے گھر پہنچ کر ابا جان نے امیر صاحب سے معذرت کی کہ بیٹے اور بہو کی خدمت سے مجھے آرام ملتا ہے اس لئے میں یہاں آگیا ہوں اور پھر بیٹوں کا حق بھی ہوتا ہے اسے بھی پورا کرنا چاہئے۔