حیاتِ خالد — Page 823
حیات خالد 812 گلدسته سیرت دوسروں کے احساسات کو لوظ رکھنے کی بات یہ ہے کہ دفتر میں آپ جب بھی چائے منگواتے تو دفتر کے مددگار کارکن کا خاص خیال رکھتے کہ اسے بھی چائے سے حصہ ملنا چاہئے۔آپ کی مہمان نوازی فی الحقیقت آپ کی ایک مشہور صفت تھی۔اخراجات کی تنگی کے باوجود گھر ہو یا دفتر آپ کی مہمان نوازی کا سلسلہ جاری رہتا۔اپنے دوستوں اور بزرگوں کو اکثر گھر پہ بلاتے رہتے۔جماعت میں بلند مقام ہونے کی وجہ سے آپ کا حلقہ احباب بھی بہت وسیع تھا۔آپ سب سے خندہ پیشانی سے ملتے اور جو میسر ہوتا اس سے تواضع کرتے۔مکرم مولا نا عبد الباسط شاہد صاحب تحریر فرماتے ہیں :- حضرت مولانا اپنے شاگردوں کی مہمان نوازی کا کوئی نہ کوئی موقع نکالتے رہتے تھے۔خاکسار جامعتہ المبشرین سے فارغ ہو کر نظارت اصلاح و ارشاد کی طرف سے بطور مربی کراچی جا رہا تھا۔ہمارے ایک دوست نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم بیرون ملک جانے والے مربیان کو تو الوداعی پارٹیاں دیتے ہیں مگر اندرون ملک خدمت دین پر روانہ ہونے والوں کے لئے یہ اہتمام نہیں کیا جاتا۔اب ہمارے دوست عبد الباسط کراچی جارہے ہیں انہیں جامعہ کی طرف سے الوداعی پارٹی دی جانی چاہئے۔یہ تجویز حضرت مولانا صاحب کے مزاج کے عین مطابق تھی۔آپ فورا تیار ہو گئے۔اسی وقت انتظام شروع کر دیا۔وقت کی تنگی کے باوجود اگلی صبح ایک شاندار تقریب کا انتظام کر لیا گیا۔جس میں سلسلہ کے عمائدین بھی ہمیں اپنی دعاؤں سے رخصت کرنے کیلئے تشریف لائے۔مجھے خوب یاد ہے کہ جب مجھے اس موقع پر کچھ کہنے کیلئے کہا گیا تو شدت جذبات سے دو چار فقروں سے زیادہ کچھ کہنا ممکن نہ ہوا۔یہاں یہ لطیفہ بھی قابل ذکر ہے کہ خاکسار کراچی جانے سے قبل یب مسند احمد بن حنبل کے سلسلہ میں خدمات بجا لا رہا تھا۔خاکسار کے کراچی جانے کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں اس کام کی جو رپورٹ پیش ہوئی اس میں خاکسار کا ذکر آنے پر حضور کے ارشاد کے مطابق خاکسار کو بذریعہ تار کراچی سے واپس آنے کی ہدایت کی گئی اور اس طرح روانگی کے دو تین ہفتوں کے اندر ہی خاکسار واپس ربوہ حاضر ہو گیا۔حضرت مولوی صاحب سے ملاقات ہوئی تو متبسم چہرے کے ساتھ فرمایا۔اسی لئے تو آپ کو الوداعی پارٹی نہیں دی جاتی کہ آپ فورا ہی تو واپس آ جاتے ہیں۔1949 ء میں جب خاکسار پہلی دفعہ بیرون ملک خدمت کے لئے جا رہا تھا تو حضرت مولوی