حیاتِ خالد — Page 815
حیات خالد 804 گلدسته سیرت ه مکرم عطاء الرحمن طا ہر تحریر فرماتے ہیں:۔متیسم چهره، در میانه قد ، با وقار تکلم، پر رعب ریش دار چہرہ، پرسکون چال، سفید لباس کو ترجیح دیتے تھے۔چھڑی سبز پہنتے تھے کیونکہ تلمیذ خاص کے طور پر ان کے استاد حافظ روشن علی صاحب نے ان کو اپنی سبز پگڑی پہننے کے لئے عطاء کی تھی اور شروع شروع میں عموما مبلغین کی پگڑی سبز رنگ کی ہوتی تھی فلسطین کے قیام کے دوران میں بھی آپ نے سبز پگڑی ہی استعمال کی تھی واپسی قادیان کے بعد بھی آپ سبز پگڑی ہی پہنتے رہے۔پاکستان ہجرت کے بعد سفید پگڑی پہنی شروع کر دی اور آہستہ آہستہ سبز پگڑی کا رواج جماعت کے مبلغین میں بھی کم ہوتا گیا۔ایک دفعہ میں نے ابا جان سے پوچھا کہ ابا جان آپ کی داڑھی شروع ہی سے ایسی تھی کہ ایک آدھ بار آپ نے بھی شیو کرایا تب پوری طرح آئی ؟ مسکرا کر فرمانے لگے میری تو ویسے ہی پوری آگئی مجھے شیو کرانے کی ایک بار بھی ضرورت نہیں پڑی میرا اللہ بڑا مہربان ہے اس نے خود ہی پوری کر دی۔اچکن عام پہناوا تھا مگر مولوی فاضل پاس ہونے پر جو گروپ فوٹو ۱۹۲۴ ء کا میں نے دیکھا تھا اس میں آپ نے لمباکوٹ پہنا ہوا تھا جو اس وقت رائج پہنا وا تھا مگر بلا عریبیہ جانے سے قبل اچکن شروع کر دی تھی اور آخری ایام تک وہی پہنتے رہے۔شلوار قمیض عام طور پر آپ کا لباس تھا گھر پر نہ بند بھی تہ استعمال کر لیا کرتے تھے۔سادگی شعار تھا مگر صفائی اصول تھا۔سنت نبوی کی پیروی میں خوشبو استعمال کیا کرتے تھے۔ه فکرم منصور احمد صاحب بی ٹی لندن لکھتے ہیں :- حضرت مولانا کی تصویر جو میرے دل پر نقش ہے وہ کچھ اس طرح کی ہے۔منور اور تاباں چمکتا ہوا چہرہ ، روشن آنکھیں، سرخ و سفید گال، گھنی داڑھی، سر پر عمامہ، ہاتھ میں عصا، شیروانی اور شلوار میں ملبوس۔سڈول اور مضبوط جسم، چال میں وقار، آواز میں ملائمت مگر جب وہ مروحق ملیح پر تقریر کر رہا ہوتا تو آواز ایک خاص جوش کے ساتھ الفاظ بیان کرتی چلی جاتی اور سننے والے مسحور اور ساکت رہتے الغرض آپ کا سراپا ایک مومن کامل کا وجود تھا۔اور اسی تصور کو میں قائم رکھنا چاہتا ہوں۔محترم مولانا محمد ابراہیم صاحب بھا میری نے حضرت مولانا کے بارے میں تحریر کردہ مضمون میں لکھا : - میں نے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کو ہمیشہ پر وقار اسلامی لباس میں دیکھا۔آپ اپنے وجود