حیاتِ خالد — Page 813
حیات خالد 802 گلدسته سیرت پاک ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس کے ساتھ محبت ہوا سے بتا دینا چاہئے۔اس لئے میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ چونکہ تم دین کی خدمت کرتے ہو اس لئے میں تم سے محبت کرتا ہوں۔اس کے بعد حضرت مولوی صاحب نے ہمیشہ مجھ سے محبت اور شفقت کا سلوک کیا جس کو دیکھ کر میں سخت شرمندہ ہوتا۔خاکسار کو اکثر تحریک کرتے کہ رسالہ الفرقان کے لئے نظمیں لکھ کر بھجوایا کرو۔میں عرض کرتا جذ بہ تو ہے لیکن میں شاعر نہیں ہوں نہ ہی اتنا علم ہے لیکن فرماتے تم لکھا کرو۔چنانچہ میں ٹوٹے پھوٹے اشعار لکھ کر الفرقان کیلئے بھیج دیتا۔آپ خود ان اشعار کی اصلاح کروانے کے بعد اسے رسالہ میں شائع کرتے اور میرا حوصلہ بڑھانے کے لئے فرماتے بہت اچھی نظم لکھی ہے۔حضرت مولوی صاحب کی شفقت اور توجہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ آہستہ آہستہ مجھے اشعار کہنے کا کچھ نہ کچھ سلیقہ حاصل ہو گیا۔مکرم خواجہ عبد المؤمن صاحب نے اپنے مضمون مطبوعہ الفضل میں احباب جماعت کی حضرت مولانا سے محبت کا یوں اظہار فرمایا ہے۔آپ لکھتے ہیں۔آپ کے جنازہ کو مسجد مبارک کی طرف لے جایا گیا تو سارا راستہ ہی لوگ پروانوں کی طرح بار بار جنازہ کو کندھا دینے کی کوشش کرتے۔نماز جنازہ میں اس کثرت سے احباب شامل ہوئے کہ جگہ نا کافی ہو گئی۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہر شخص کو حضرت مولوی صاحب کے ساتھ خصوصی لگاؤ ہے۔آپ بچوں سے جو شفقت فرماتے تھے اس کی وجہ سے اطفال بھی بڑی کثرت سے آپ کے جنازہ میں شامل ہوئے اور تدفین تک ساتھ رہے۔( الفضل۔ارجون ۱۹۷۷ء) مکرم را نا ناصر احمد صاحب مرحوم سابق باڈی گارڈ حضرت خلیفہ اسیح الثالث احباب کرام کی حضرت مولانا سے محبت اور آپ کے بے تکلفانہ انداز کے بارہ میں ایک واقعہ لکھتے ہیں :۔ایک دفعہ میں نے چند بزرگوں کو چائے پلائی۔اس موقعہ پر جگہ کا تعین نہ ہوتا تھا۔جب پانچ چھے دن گذر گئے تو مولوی صاحب نے مجھے کہا "بھئی وہ کب! میں نے عرض کی کہ جگہ کا مسئلہ ہے فرمایا حضرت مولانا عبد المالک خان صاحب کے دفتر میں کر لیں۔میں نے کہا وہ ناراض نہ ہوں۔مسکرا کر فرمایا ان کا نام لسٹ میں ہے؟ میں نے کہا نمبر ایک پر ان کا نام ہے۔فرمانے لگے چلو میں ساتھ چلتا ہوں۔میرے ساتھ گئے۔حضرت مولانا عبدالمالک خان صاحب حضرت مولانا کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا آپ یہاں ہمیں چائے پینے کی اجازت دیں گے۔خان صاحب نے فرمایا۔میرا دفتر حاضر ہے۔کیا صرف آج کے لئے یا ہر روز ملے گی ؟ ہم تینوں ہنس پڑے۔