حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 80 of 923

حیاتِ خالد — Page 80

حیات خالد 84 اساتذہ کرام واپس دینا چاہی آپ نے فرمایا کہ اپنے سر پر ہی رہنے دو اور خود دوسری سبز پگڑی پہن لی۔واپسی پر ایک رات حضرت ڈاکٹر کرم الہی صاحب مرحوم کے مکان میں (جو ان دنوں ہم سب کیلئے لنگر خانہ کی حیثیت رکھتا تھا ٹھہرے۔مکرم جناب ڈاکٹر محمد منیر صاحب نے میری سبز پگڑی دیکھ کر حضرت حافظ صاحب سے مذاقاً پوچھا کہ حافظ صاحب ! یہ مولوی صاحب کی دستار بندی کی ہے؟ آپ نے اثبات میں جواب دیا۔قادیان پہنچ کر دوسرے روز میں پگڑی نہ کر کے واپس کرنے کیلئے مکان پر پہنچا تو فرمانے لگے کہ تم نے میر اوہ جواب نہیں سنا تھا جو میں نے ڈاکٹر محمد منیر صاحب کو دیا تھا ؟ میں نے عرض کیا وہ تو دل لگی کی بات تھی فرمایا نہیں نہیں اب اسے دستار بندی ہی سمجھو اور اب تم اسے پہنے رہو۔چنانچہ پھر میں نے وہ پہلی سبز پگڑی پہنی اور بعد ازاں عرصہ تک سبز پگڑی ہی پہنتا رہا۔تعلیمی ایام کا ہی واقعہ ہے کہ ہم گوجرہ میں جلسہ کیلئے گئے ، خوب زور دار تقریریں کیں ، میرا گلا بیٹھ گیا۔مرکز سے حضرت حافظ صاحب کے نام تار آیا کہ قصور میں عیسائیوں سے مقابلہ ہے ابوالعطا ء کو وہاں بھیج دیں۔آپ نے جوابا تار دیا کہ اس کا گلا خراب ہے کوئی اور انتظام کیا جائے۔واپسی پر لاہور میں جمعہ کی نماز پڑھی تو وہاں پر حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب نیر نائب ناظر دعوت و تبلیغ نے حضرت حافظ صاحب سے میرے بارے میں اجازت لے لی کیونکہ اب میرا گلا بھی دو دن کے وقفہ سے اچھا ہو گیا تھا۔نیز مولا نا نیر صاحب نے مجھے بتایا کہ قصور میں حضرت مولوی غلام رسول صاحب بھی ہوں گے۔میں حضرت حافظ صاحب کو قادیان کیلئے لاہور ریلوے اسٹیشن پر گاڑی میں بٹھانے گیا آپ کا بستر میں نے اٹھایا ہوا تھا۔میں نے باتوں باتوں میں کہہ دیا کہ فکر کی کوئی بات نہیں قصور میں مولانا را جیکی صاحب بھی ہوں گے۔میرا یہ کہنا تھا کہ حضرت حافظ صاحب نے غضبناک لہجہ میں کہا کہ اگر یہ بات ہے تو تم اپنا سامان بھی لے آؤ اور میرے ساتھ قادیان چلو قصور جانے کی ضرورت نہیں ، تم مولوی را جیکی صاحب پر تکیہ کرتے ہو اور اپنے آپ کو ہی ذمہ وار نہیں سمجھتے۔میں نے فی الفور کہا کہ نہیں حضرت میں اپنے آپ کو ذمہ وار سمجھوں گا اور تکیہ صرف اللہ تعالیٰ پر کروں گا۔حضرت حافظ صاحب کے چہرہ پر بشاشت تھی کہنے لگے ہاں یہ بات ہے میرے شاگر دایسے ہی ہونے چاہیں۔اب بے شک جاؤ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔حضرت حافظ صاحب میں دین و سلسلہ کیلئے بڑی غیرت تھی۔ہم قریباً روزانہ صبح کی نماز کے بعد سیر کیلئے جایا کرتے تھے۔ایک دن مکرم مولوی ظہور حسین صاحب سابق مبلغ بخارا بھی سیر میں شریک