حیاتِ خالد — Page 735
حیات خالد 724 گلدستۂ سیرت دریا کی سی روانی سے آپ بول رہے تھے۔فصاحت و بلاغت کا ایک سمندر تھا جو بہہ رہا تھا۔ہر طرف سے آفرین اور واہ واہ سبحان اللہ کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔خود ڈ پٹی کمشنر صاحب محو حیرت ہو کر ٹکٹکی لگائے حضرت مولانا کی طرف دیکھ رہے تھے۔تقریر ختم ہوئی تو جیسے لوگ بے ہوشی سے ہوش میں آگئے۔بے اختیار تعریف و تحسین کا شور اٹھا۔حاضرین بر ملا کہہ رہے تھے کہ اس تقریر نے جلسہ میں رنگ بھر دیا ہے۔جلسہ کے بعد مولانا نے دیگر احباب جماعت کے ہمراہ میرے گھر کھانے کے لئے جانا تھا۔جب میں دیگر احباب کے ساتھ گھر پہنچا تو تھوڑی دیر کے بعد دروازے پر دستک ہوئی۔میں با ہر نکلا تو دیکھا کہ ایک نوجوان ہندو وکیل جو میرے دوست تھے کھڑے ہیں۔میں نے انہیں خوش آمدید کہا اور آمد کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے بے ساختہ کہا کہ میں آپ کے مولانا صاحب کے قریب سے درشن کرنے آیا ہوں۔ان کی تقریر نے مجھ پر بے حد اثر کیا ہے۔میں ان کی روحانی شخصیت سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔میں ان صاحب کو لے کر اندر آ گیا اور مولانا سے ان کا تعارف کروایا۔وہ ہندو دوست حضرت مولانا کے سامنے بیٹھ گئے اور ٹکٹکی باندھ کر مولانا کی طرف دیکھتے رہے۔چونکہ کھانے میں گوشت تھا اور ہندو احباب گوشت کھا نامند با حرام سمجھتے ہیں لہذاوہ دوست ہمارے ساتھ کھانے میں تو شامل نہ ہو سکے۔لیکن مولانا کے بالکل بالمقابل بیٹھے رہے۔کھانے کے بعد نہایت پر لطف اور ایمان پرور گفتگو ہوئی جس سے وہ ہند و دوست بہت محظوظ ہوئے۔دوسرے دن صبح یہ ہند و وکیل دوست میرے دفتر تشریف لائے۔ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔وہ کہنے لگے میں نے جو کچھ تقریر میں سنا اور بعد میں ملاقات کی اس سے میں نے حضرت مولانا کی ذات میں روحانیت کا ایک ایسا جلوہ مشاہدہ کیا ہے جس کے بعد اب میں دل سے مسلمان ہو چکا ہوں۔یہ انداز صرف اور صرف جماعت احمدیہ میں دیکھنے میں آیا ہے۔اس کے بعد ان کا معمول ہو گیا کہ وہ مجھے ہر روز ملتے۔مولانا کا خاص طور پر پوچھتے۔قادیان جانے کا بھی ارادہ کیا۔میں نے دیکھا کہ ان کا دل اسلام اور حضرت نبی پاک ﷺ کی محبت میں گداز ہو چکا تھا۔تھوڑے عرصہ کے بعد میرا تبادلہ ڈیرہ غازی خان ہو گیا۔اس کے بعد ان سے ملاقات کا موقع نہ طلا اگر چہ ان سے خط و کتابت جاری رہی۔آخر ملک تقسیم ہو گیا اور وہ دوست ہندوستان چلے گئے۔اللہ تعالی نے اپنے پیارے مسیح کو کتنے نایاب گوہر عطا فرمائے جن کی زندگیاں اسلام کی زندہ