حیاتِ خالد — Page 729
حیات خالد 0 718 گلدستۂ سیرت جناب ثاقب زیروی نے حضرت مولانا کی وفات کے بعد ۶ / جون ۱۹۷۷ء کے شمارے میں جو تعزیتی ادارتی نوٹ سپرد قلم کیا اس میں خطابت کے موضوع کو زیادہ جگہ دی۔آپ نے لکھا: - حضرت مولانا کی شخصیت اوصاف و اخلاق کے اعتبار سے رنگ برنگے پھولوں کے ایک مہکتے ہوئے گلدستے کی مانند تھی۔گفتگو میں رس، لہجے میں شیرینی ، انداز تخاطب پر جلال واثر انگیز ، پر شوکت دردبھری ( کانوں میں پڑتے ہی سماعت میں گھل جانے والی ) آواز ، ہر تقریر سلاست بیان واظہار کا انمول مرقع ، دلائل و براہین سے مرصع اور ہر فقرہ روز مرہ محاورہ سے آراستہ پیراستہ۔اہم سے اہم اور ادق سے ادق مضمون پر معین و محدود وقت میں مسکت و جامع دلائل سے موضوع کے تمام پہلوؤں کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے انتہائی ملائمت و نفاست سے اپنے سامعین کے دلوں میں اتار دینا تو ان کا وصف خاص تھا۔ان کا خطاب شروع ہوتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے گراموفون پر کوئی ریکارڈ شدہ تقریر لگا دی گئی ہے اور ۴۵ منٹ ایک گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ریکارڈ پر سے سوئی ہٹائی گئی ہے۔تقریر میں تمہید کا مرحلہ طے ہو جانے کے بعد دلائل کا حصہ شروع ہوتے ہی آواز بلند ہو جاتی۔بیان واظہار کا جلال دو چند ہو جاتا اور مولانا کے چہرے پر ایک عجیب پر شوکت رنگت سی لہرا جاتی“۔ہفت روزہ لاہور لاہور ۶ جون ۱۹۷۷ء صفحه ۴ (۱۴) قریباً نصف صدی تک امیر جماعت ہائے احمد یہ صوبہ پنجاب اور امیر جماعت ہائے احمد یہ ضلع سرگودھا کے عہدوں پر فائز رہنے والے حضرت مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ نے لکھا: - آپ ایک نہایت فصیح البیان مقرر تھے۔تقریر بہت مدلل اور موثر ہوتی۔آپ کی سالانہ جلسہ کی تقاریر ہمیشہ پسند کی جاتیں۔احمدیت اور خلافت حقہ پر اعتراضات کے آپ دندان شکن جواب دیتے۔اس کے لئے آپ کو خدا کے فضل سے خاص طور پر توفیق دی گئی تھی اور اس وجہ سے آپ کو حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کی طرف سے خالد احمدیت کے پیارے لقب سے نوازا گیا۔میں لکھا : - "" ( الفضل ۲۷ جون ۱۹۷۹ء صفحه ۵) مکرم مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق نے حضرت مولانا کے فن خطابت کے بارے حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کے نام گرامی سے جماعت احمدیہ کا ہر فر د واقف ہے۔نو جوانی سے ہی یہ عاجز حضرت مولانا موصوف کی شخصیت سے بہت متاثر تھا۔آپ خدا کے فضل و کرم سے ایک