حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 72 of 923

حیاتِ خالد — Page 72

حیات خالد 76 اساتذہ کرام نے ان کے بعض مناظرات بھی سنے ہیں اور اکثر دفعہ ان کی صدارت میں خود بھی مناظرات اور تقاریر کی ہیں۔وہ ہر موقعہ پر لا جواب بات کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک سناتنی پنڈت سے مناظرہ تھا اس پنڈت نے پہلی تقریر سنسکرت اور ملی جلی ہندی میں کی ہم حیران تھے کہ اب کیا ہوگا۔حضرت میر صاحب سارا وقت خاموشی سے تقریر سنتے رہے اور جب آپ کا وقت شروع ہوا تو کھڑے ہو کر نہایت متانت سے عربی میں تقریر شروع فرما دی۔سارے ہندو اور آریہ منہ تک رہے تھے۔ان کے صدر نے کہا حضرت آپ کی تقریر کو ہم نہیں سمجھ سکتے۔آپ نے فرمایا وَنَحْنُ كَذلِكَ آخر قرار پایا کہ اُردو میں تقاریر ہوں۔چنانچہ آرام سے نہایت کامیاب مناظرہ ہوا۔حضرت میر صاحب کا یہ اقدام نہایت ہی پُر لطف تھا۔ہم نے دوران تعلیم حضرت میر صاحب کی نادر ذہانت کے صد ہا نمونے دیکھے ہیں۔آزادانہ سوال و جواب کا موقع ہوتا تھا۔ہماری مشق کیلئے آپ بسا اوقات ایسے اعتراضات بھی کرتے جن کا جواب ہم سے بن نہ پڑتا تو آپ پھر خود ان کو بہترین طریق پر حل فرماتے۔آپ کو اپنی دلیل پر بڑا اعتماد ہوتا تھا۔دشمنوں سے اس بارے میں آپ نے بار باخراج تحسین حاصل کیا ہے۔پادریوں ، پنڈتوں اور مخالف مولویوں سب سے آپ کے کامیاب مناظرات ہوئے۔۔وقت کی قدر شناسی میں آپ بہت آگے تھے۔ہر کام میں پابندی اوقات کے خواہاں تھے۔مجھے یاد ہے کہ جب ۱۹۳۰ء میں مخرجین کے خلاف ایک تقریر کی وجہ سے جو حضرت میر صاحب کی صدارت میں ہوئی تھی مجھ پر اور حضرت میر صاحب اور دیگر چند بزرگوں پر دفعہ ۱۰۷ کا مقدمہ ہوا اور ہم سارے اکٹھے بٹالہ وغیرہ جایا کرتے تھے۔ایک دن وہاں پر ہماری مجلس میں گفتگو چل پڑی کہ مسجد اقصیٰ میں پابندی وقت کے ساتھ نماز کھڑی ہو جانے کے باعث لوگ مسجد مبارک کی نسبت وہاں زیادہ جاتے ہیں۔حضرت میر صاحب پر زور طور پر اس کی وکالت کر رہے تھے کہ نمازوں کے اوقات مقرر ہونے چاہئیں اور ان کی پوری پابندی کرنی چاہئے۔میں ان دنوں محلہ دار الرحمت قادیان کا صدر تھا اور حضرت صوفی غلام محمد صاحب مرحوم مبلغ ماریشس محلہ دار الرحمت میں امام الصلوۃ تھے۔میں نے گونہ فخر سے کہا کہ حضرت ! ہم نے اپنے محلہ میں بڑا عمدہ انتظام کر رکھا ہے کہ اگر مقررہ وقت کے بعد پانچ منٹ تک مقررہ امام تشریف نہ لائیں تو دوسرا شخص نماز پڑھا دیتا ہے۔حضرت میر صاحب نے بڑی حیرت اور تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مولوی صاحب آپ نے یہ کیا کیا ہے؟ آج کے زمانہ میں پانچ منٹ بڑی چیز ہیں نماز ہمیشہ وقت پر ہونی چاہئے۔اس وقت تو میں نے یہی سمجھا تھا کہ یہ بہت تشدد