حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 709 of 923

حیاتِ خالد — Page 709

حیات خالد 698 گلدسته سیرت ایک طرف اور دار الرحمت غربی کی مسجد ناصر دوسری طرف۔ابا جان کا اور ہم سب کا طریق یہی تھا کہ ہم دونوں مسجدوں میں نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔سہولت کیلئے ابا جان کی ہدایت پر ہم نے گھر کے برآمدہ میں ایک بورڈ بنا کر لگایا ہوا تھا جس پر دونوں مسجدوں میں نمازوں کے اوقات لکھے ہوتے تھے تا کہ وقت کے لحاظ سے جہاں سہولت ہو نماز ادا کر لی جائے اور نماز با جماعت مل جائے۔حضرت ابا جان کے نمازوں کے اہتمام کو دیکھ کر ہمیشہ وہ حدیث یاد آتی ہے کہ مومن کا دل تو گویا مسجد میں لڑکا رہتا ہے اور ایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار رہتا تھا۔آپ بڑی محبت اور چاہت سے مسجد جا کر نمازیں ادا فرماتے۔مجھے یاد ہے کہ موسم گرما میں بعض اوقات اتنی شدید گرمی ہو جاتی تھی کہ بسا اوقات دل کرتا تھا کہ نماز گھر پر ہی ادا کر لی جائے۔ایسی شدید گرمی میں بھی حضرت ابا جان سر پر تولیہ لپیٹ کر ، پانی کا گلاس پی کر ، نماز کے لئے مسجد تشریف لے جاتے اور کئی بار میں نے سنا کہ آپ سخت گرمی کے حوالے سے ایسے موقعوں پر اس آیت کریمہ کا ذکر فرماتے کہ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا کہ جہنم کی آگ حرارت میں بہت ہی شدید ہے۔جن لوگوں کو ربوہ یا کسی اور علاقہ کی شدید گرمی کا تجربہ ہوا ہو وہ صحیح اندازہ کر سکتے ہیں کہ ایسی گرمی میں نماز کے لئے مسجد جانا کتنا مشکل ہوتا ہے اور ایسی گرمی میں مسجد جا کر نماز ادا کرنے کا کتنا ثواب ہوتا ہوگا۔مکرم مولانا بشیر احمد صاحب قمر ایڈیشنل ناظر تعلیم القرآن و وقف عارضی ربود تحریر 0 فرماتے ہیں:- جب آپ نماز پڑھتے تو تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام تک تمام ارکان نماز ، قیام، رکوع وجود اور قعدہ وغیرہ پورے سکون اور اطمینان سے ادا فرماتے۔نیت نماز کے بعد دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھاتے اور پھر سینہ پر باندھ کر پورے عجز و نیاز اور خشوع و خضوع سے نماز میں مصروف ہو جاتے اور حدیث نبوی کے مطابق یوں معلوم ہوتا کہ آپ خدا تعالی کو دیکھ رہے ہیں اور دنیا سے منقطع ہو چکے ہیں۔کبھی کبھی جسم کانپ جاتا۔خشیت اللہ اور عظمت الہی کی وجہ سے آپ کے بدن پر کبھی کبھی لرزہ سا طاری ہو جاتا۔ایسے وقت میں آپ کا چہرہ سرخ ہو جاتا۔امامت کی صورت میں فرمان نبوی ﷺ کے ماتحت اس طرح نماز پڑھاتے کہ نہ اتنی لمبی ہوتی کہ مقتدی اکتا جائے اور نہ اتنی مختصر کہ انسان نماز کے اسباق اور تسبیحات بھی پوری طرح نہ پڑھ سکے بلکہ اس طرح پڑھاتے کہ ہر انسان آسانی سے نماز کے الفاظ ادا کر سکے۔یہ بات میں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے محسوس کی۔آپ کی اقتداء میں نماز