حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 623 of 923

حیاتِ خالد — Page 623

حیات خالد 618 V آخری ایام لگ جاتے ہیں اور بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ میں سے ہر ایک کو ہر ا قسم کے شر سے محفوظ رکھے اور اپنی امان میں رکھے اور آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہر قسم کی تکلیف سے بچائے اور کام کرنے کی اور اپنے حضور مقبول سعی کرنے کی توفیق عطا کرے۔ہمارے لئے دوصد مے اوپر نیچے آئے۔پہلے حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ہماری محترمہ پھوپھی جان کی وفات ہوئی اور پھر چند دن کے بعد محترم ابو العطاء صاحب کی وفات ہوئی۔آپ سب مرد و زن اور چھوٹے بڑے اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ ہم بت پرست نہیں ہیں ہم خدائے واحد و یگانہ پر ایمان صلى الله صلى الله لاتے ہیں۔اس خدا پر جس نے خود کو محمد رسول اللہ ملنے پر ظاہر کیا اور آپ ﷺ کے طفیل دنیا نے اس قادرانہ اور متصرفانہ عمل کرنے والے اور فیصلہ کرنے والے کی قدرتوں کے جلوؤں کا مشاہدہ کیا۔ہم اس قادر و توانا خدا پر ایمان لاتے ہیں اور اسی پر ہمارا تو کل اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔اس قسم کی ہستیاں اس قسم کے وجود ہمارے لئے نمونہ بنتے ہیں اور بنیادی چیز جس میں وہ ہمارے لئے نمونہ بنتے ہیں یہ ہے کہ وہ خدائے رحمن سے منہ موڑنے والے نہیں ہوتے۔جو دو آیات میں نے ابھی پڑھی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص رحمن کے ذکر سے منہ موڑ لے اس پر ہم شیطان مستولی کرتے ہیں اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے اور ہدایت اور صداقت اور سچائی کی راہوں سے اسے روکتا ہے لیکن وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔بات یہ ہے کہ جہاں تک ہدایت یافتہ ہونے یا نجات یافتہ ہونے کا تعلق ہے یہ صفت رحیمیت کے طفیل نہیں بلکہ صفت الله رحمانیت کا اس سے واسطہ ہے۔نبی اکرم ﷺ جیسی بزرگ ہستی سے بھی جب سوال کیا گیا تو آپ علی نے بھی یہی فرمایا کہ اپنے عمل سے نہیں بلکہ خدا کی رحمت سے اور اس کے فضل سے میں اس کی جنتوں میں داخل ہوں گا۔رحیمیت کا تعلق ہمارے اعمال سے ہے اور رحمانیت کا تعلق اس واقعہ سے ہے کہ ہم خواہ کتنی ہی بڑی چیز خدا کے حضور پیش کردیں خدا تعالی جو خالق کل اور مالک کل اور غنی ہے اس کو تو اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔اگر وہ چاہے تو اپنی رحمانیت سے اسے قبول کر لے اور اگر چاہے تو اپنی رحمانیت کا جلوہ نہ دکھائے اور اسے رد کر دے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو سارے جہان کے لئے اور قیامت تک کے لئے ایک نمونہ ہیں کہ کس طرح آپ رحمن خدا کی پرستش کرنے والے اور اپنی ساری توجہ اور سارے اعمال کو اس کی طرف پھیرنے والے تھے۔پھر آپ ﷺ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں امت محمدیہ میں کروڑوں خدا کے بندے پیدا ہوئے جنہوں نے خدائے رحمن کو پہچانا اور اس کی عظمت