حیاتِ خالد — Page 620
حیات خالد 615 آخری ایام آپ کے لئے خاص امتیاز کا باعث ہے کہ سیدنا حضرت مصلح الموعود خلیفہ البیع الثانی رضی اللہ عنہ نے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس مرحوم اور محترم ملک عبدالرحمن صاحب خادم مرحوم کے ساتھ آپ کو بھی خالد احمدیت" کے لقب سے سرفراز فرمایا اور اس طرح ایک لافانی اعزاز آپ کے حصہ میں آیا۔۔ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ بلا شبہ ایسے عالم باعمل اور ایسے فدا کارو جاں نثار خادم سلسلہ کی رحلت جماعت میں ایک خلاء پیدا کرنے کا موجب ہوتی ہے۔خدائی وعدوں کے ہمو جب ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارا صادق الوعد خدا اپنے فضل سے اس خلاء کو پر کر دکھائے گا اور آئندہ بھی وہ اپنی اس جماعت میں ایسے لوگ بکثرت پیدا کرے گا جو اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ جو اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔تاہم جماعت کے نو جوانوں پر اس ضمن میں ایک عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور فی الوقت ہم انہیں اپنی اس ذمہ داری کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں اور وہ ذمہ داری سید نا حضرت اصلح الموعود خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے نہایت ہی پر درد الفاظ میں یہ ہے۔ہم تو جس طرح بننے کام کیے جاتے ہیں آپ کے وقت میں سلسلہ بدنام نہ ہو نوجوانان احمدیت کا یہ فرض ہے کہ وہ ان تھک محنت ، جد و جہد اور کوشش نیز دردمندانہ دعاؤں سے کام لیتے ہوئے اپنے آپ کو اس قابل بنا ئیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے قرار پائیں اور خدا تعالی انہیں اپنے افضال وانعامات کا مورد بنا کر انہیں یہ توفیق عطا فرما تا چلا جائے کہ ان میں جماعت کے اندر رونما ہونے والے ہر خلاء کو پر کرنے والے وجود پیدا ہوتے چلے جائیں اور اس طرح خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کو ان کے ذریعہ پورا کرتا چلا جائے۔یہی وہ نصیحت ہے جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک ایسے ہی موقع پر جماعت کے نوجوانوں کو کی تھی۔ہم اس بیش قیمت نصیحت پر ہی اپنی ان معروضات کو ختم کرتے ہیں۔حضرت میاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ا۔یہ زندگی عارضی ہے اور ہر انسان نے بہر حال جلد یا بدیر مرتا ہے مگر ترقی کرنے والی جماعتوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ جب ان میں سے کوئی فرد وفات پاتا ہے تو اس کی جگہ لینے کیلئے ( نام کی جگہ نہیں بلکہ حقیقی قائم مقامی کے لئے ) اس کام کے آدمی پیدا ہو جاتے ہیں۔