حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 5 of 923

حیاتِ خالد — Page 5

حیات خالد 5 پیش لفظ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود پیش لفظ حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے جماعت کو نصیحت فرمائی تھی کہ ہر خاندان کو اپنے بزرگوں کی تاریخ اکٹھا کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہئے“۔"" خطبہ جمعہ ۷ ار مارچ ۱۹۸۹ء) بعد ازاں اسی تسلسل میں آپ نے فرمایا :- وہ سارے خاندان جن کے آباء واجداد میں صحابہ یا بزرگ تابعین تھے ان کو چاہئے کہ اپنے خاندان کا ذکر خیر اپنی آئندہ نسلوں میں جاری کریں سب سے زیادہ زور اس بات پر ہوتا چاہئے کہ آنے والی نسلوں کو اپنے بزرگ آباء و اجداد کے اعلیٰ کردار اور اعلیٰ اخلاق کا علم ہو، ان کی قربانیوں کا علم ہو۔( خطبه جمعه فرموده ۳۰ را پریل ۱۹۹۳ء) الحمد لله ثم الحمد للہ کہ اس مبارک ارشاد کی تعمیل میں خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ کی سوانح اور سیرت پر مشتمل یہ کتاب قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔آپ کا وصال ۳۰ رمئی نے ۱۹۷ء کو ہوا اور اسی وقت سے یہ شدید خواہش تھی کہ آپ کے حالات زندگی اور سیرت کے مختلف پہلوؤں پر تفاصیل مرتب کر کے آئندہ نسلوں کے لئے انہیں محفوظ کر دیا جائے لیکن لئے انہیں محفوظ کر دیا اس کار خیر کے شروع کرنے میں بوجوہ دیر ہوتی گئی۔سات سال قبل پاکستان آیا تو حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی اصولی اجازت اور دعاؤں کے بعد ایک کمیٹی بنا کر اس کام کا آغاز کیا گیا۔کتاب کی تالیف کیلئے مکرم سید یوسف سہیل شوق صاحب سے درخواست کی جو انہوں نے بخوشی قبول کی اور فوری طور پر کام شروع ہو گیا۔یہ ایک لمبا سفر تھا جو قدم بقدم تیزی سے طے ہوتا رہا اور ۲۰۰۱ ء تک مسودہ کو ترتیب دینے کا کام کافی حد تک مکمل ہو گیا اور ایک کتاب کی شکل سامنے آنے لگی لیکن اس کتاب کے مؤلف برادرم سید یوسف سہیل شوق صاحب اسی سال داغ مفارقت دے گئے۔آپ نے لمبا عرصہ دن رات ایک کر کے اس کتاب کا مواد اکٹھا کیا، اس کو سلیقہ سے ترتیب دیا ، حواشی لکھے لیکن اشاعت کا مرحلہ آنے سے قبل ہی وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔اللہ تعالیٰ انہیں اس محنت کی بھر پور جزا دے مغفرت فرمائے اور رحمتوں سے فرمائے۔آمین اس مرحلہ تک آ کر کام پھر رُک گیا اور بات آگے نہ بڑھ سکی۔بالآخر دسمبر ۲۰۰۳ء میں کچھ عرصہ کی رخصت لے کر میں ربوہ آیا اور کتاب پر تفصیلی نظر ثانی کا کام شروع کیا۔یہ بھی ایک لمبا اور مشکل سفر تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر قدم پر دستگیری اور نصرت فرمائی۔الحمد للہ کہ یہ فرض ادا ہوا اور طویل مراحل سے گزرنے کے بعد