حیاتِ خالد — Page 508
حیات خالد۔498 تصنیفات ۱۹۳۶ء میں مہبت پور ضلع ہوشیار پور میں مناظر جماعت احمد یہ حضرت ۵۔مناظرہ بہت پور مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری اور مناظر شیعہ اثنا عشریہ جناب مرزا یوسف حسین صاحب کے مابین تحریری مناظر و مندرجہ ذیل چار عناوین پر ہوا۔(1) صداقت دعوی حضرت مسیح موعود و مہدی معہود (۲) متعة النساء (شيعه ) (۳) ختم نبوت کی حقیقت (۴) تعزیه (شیعه) ی حقیقت افروز تحریری مناظرہ پہلی بار ۱۹۳۶ء میں فریقین کے مشترکہ خرچ پر شائع ہوا۔پھر مکتبہ الفرقان ربوہ نے بھی اسے ا۱۹۷ء میں شائع کیا۔-4 ابتلاؤں کے متعلق الہی سنت اور غیر مبائعین کے اعتراضات کے جوابات چونسٹھ صفحات کا یہ کتابچہ تم نشر واشاعت نظارت اصلاح دارشاد صدر انجمن احمد بی ربوہ نے شائع کیا جس میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی بیماری پر اہل پیغام کے اعتراضات کا ۲۰ نومبر ۱۹۶۱ء کو جواب دیتے ہوئے حضرت مولانا نے اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور ان کی جماعتوں سے سلوک ، اس کے ابتلائی پہلو، ابتلاؤں کے فوائد اور بعد ازاں نصرت الہی اور انبیاء و صلحاء پر بیماریوں کے ابتلاء پرمتفقین کے موقف اور احادیث نبویہ میں بیماریوں پر ثواب کے تذکرہ اور امیر غیر مبائعین مولوی محمد علی صاحب کی گواہی کے بعد سید نا حضرت مسیح موعود کا قول فیصل تحریر فرمایا کہ : - کسی مدعی الہام کی صداقت کی جانچ کے لئے صرف دس سالہ مہلت بھی کافی ہے جبکہ حضرت حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے الہامات پر تو چالیس سال گذر چکے ہیں۔صداقت کا اصل معیار نصرت خداوندی، پے در پے آسمانی تائیدات ، معارف قرآنی سے لبریز تفسیر کبیر کی جلدیں اور دیگر کتب دینیہ ، نے تبلیغی مشنوں کا قیام، قرآن کریم کے غیر ملکی زبانوں میں تراجم، اکناف عالم میں مساجد کی تعمیر، ممالک غیر میں مدارس اور اخبارات ، نئے مرکز ربوہ کی شاندار تعمیر اور ۵۳ ۱۹۵۲ء کے فسادات کے وقت خدائی تائید کے نظارہ کے علاوہ ہر سال کامیاب جلسہ سالانہ اور جماعت کی ہر آن ترقی پذیر و مقبول بارگاہ الہی مالی قربانیاں خلافت احمد یہ اور سید نا حضرت