حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 47 of 923

حیاتِ خالد — Page 47

حیات خالد 50 ولادت بچین اور تعلیم تھا کہ میرے والد صاحب احمدی ہیں اور جب انہیں معلوم ہوا کہ انہوں نے مجھے قادیان دارالامان میں تعلیم کیلئے بھیجا ہے تو انہوں نے میرے والد صاحب سے کہا کہ جب آپ کا بچہ قادیان سے تعطیلات میں آئے تو اسے کہنا کہ مجھے ضرور ملے۔چنانچہ پہلے سال ہی جب ہی جب میں موسم گرما کی تعطیلات میں گھر آیا تو والد صاحب مرحوم نے مجھے فرمایا کہ اپنے استاد سے موسیٰ نور جا کر مل آؤ۔میں ان سے ملنے گیا۔وہ مدرسہ میں تھے۔گاؤں کا ڈاکخانہ مدرسہ میں ہی تھا۔وہ برانچ پوسٹ ماسٹر بھی تھے۔میں ان کے پاس پہنچا تو بہت خوش ہوئے۔اس وقت وہ ڈاک خانہ کی مہر کی تاریخ بدل رہے تھے مجھے فرمانے لگے کہ میاں جی ! یہاں تو آج ۱۷ تاریخ ہے قادیان میں کونسی تاریخ ہوگی؟ میں نے کہا جناب ! تاریخ تو وہاں بھی یہی ہے تاریخ کا تو کوئی فرق نہیں ہے۔پھر ادھر اُدھر کی اور باتیں ہوتی رہیں۔ڈاک آگئی ، کھولی ان کے نام ایک آریہ اخبار بھی آتا تھا۔اسے پڑھتے ہوئے ایک خبر پڑھ کر مجھے کہنے لگے کہ آپ مجھے ایک بات بتا ئیں اور وہ یہ ہے کہ اگر مکہ میں خدا کا گھر ہے تو جو حاجی وہاں جاتے ہیں ان کو ہدو کیوں لوٹ لیتے ہیں؟ میں بالکل بچہ تھا اور ان کا شاگر د بھی۔مگر میں نے اس وقت بے دھڑک جواب دیا کہ ماسٹر صاحب جہاں گلاب کا پھول ہوتا ہے وہاں ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں۔میرے اس جواب کو سن کر ماسٹر میا رام صاحب نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور کہنے لگے کہ میں حیران تھا کہ میاں امام دین صاحب نے اپنے بیٹے کو اتنی دور قادیان میں پڑھنے کیلئے کیوں بھیجا ہے؟ باقی تعلیم تو اور جگہ بھی ہو سکتی ہے مگر اب سمجھا ہوں کہ دراصل ایسی ہی باتوں کیلئے آپ کو قادیان داخل کیا گیا ہے۔یہ باتیں اور کسی جگہ سے سیکھی نہیں جاسکتیں۔آخر انہوں نے مجھے محبت سے رخصت کیا اور خواہش کی کہ جب کبھی آپ گاؤں آیا کریں تو مجھ سے ضرور ملا کریں۔مگر ان کی جلد وفات کی وجہ سے مجھے ان سے پھر ملنے کا موقعہ میسر نہ آیا۔الفرقان نومبر ۱۹۶۷ء صفه ۳ ۴ تا ۴۴) کہتے ہیں کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔حضرت مولانا کی زبر دست ذہانت و فطانت کے کئی واقعات آپ آگے بھی پڑھیں گے۔مگر ۱۳ سال کے لگ بھگ عمر میں ایسا خوبصورت اور مسکت جواب دینا اس امر کو واضح کر رہا تھا کہ مستقبل کا " خالد احمدیت خلافت احمدیہ کے زیر سایہ پروان چڑھ رہا ہے۔قادیان کی پاکیزہ فضا میں اس وقت کیسے کیسے عالی مقام وجود تھے جو نو عمر طالب علموں کو دین