حیاتِ خالد — Page 46
حیات خالد 49 ،، تکلیف ہوگی۔اس کے بعد آپ ہر جماعت میں اول آتے رہے۔ولادت ، بچپن اور تعلیم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہونے کے بعد آپ اپنے مدرسہ احمدیہ میں اساتذہ اور ساتھی اساتذہ اور ساتھیوں کا یوں ذکر فرماتے ہیں :- جماعت کے آخری پیج پر مجھے اخویم عبدالرحیم صاحب دیانت ( حال درویش قادیان) کے ساتھ جگہ ملی تھی۔جماعت اوّل کے اساتذہ میں محترم قاری غلام یاسین صاحب قرآن پڑھاتے تھے، محترم ماسٹر مولا بخش صاحب اردو پڑھاتے تھے محترم مرزا برکت علی صاحب اطال الله بقائه حساب پڑھاتے تھے ، محترم ماسٹر محمد طفیل صاحب انگریزی پڑھاتے تھے اور محترم مولوی محمد جی صاحب صرف ونحو پڑھاتے تھے۔محترم مولوی عبدالرحمن صاحب فاضل حال امیر جماعت احمد یہ قادیان عربی ادب پڑھاتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ مؤخر الذکر استاد حضرت مولوی عبد الرحمان صاحب بالکل نئے نئے فارغ ہو کر مدرسہ میں مقرر ہوئے تھے۔ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی چھڑی ہوتی تھی دروازہ سے داخل ہوتے ہی " از راہ شفقت طلبہ سے چھڑی لگا کر وہ حال پوچھا کرتے تھے۔حسن اتفاق کی بات تھی۔کہ میرا اور مکرم عبد الرحیم صاحب کا بینچ دروازہ کے ساتھ پہلا پینج تھا اس لئے اس شفقت کا آغاز وہیں سے ہو جاتا تھا۔تمام اساتذہ نہایت محنت اور محبت سے پڑھاتے تھے آج بھی ان کی محبتوں کو یاد کر کے دل سے دعائیں نکلتی ہیں جَزَاهُمُ اللهُ خَيْرًا۔اس زمانے کے اساتذہ طلبہ کو مدرسہ کے مقررہ وقت کے علاوہ بھی پڑھانا اپنا فرض سمجھتے تھے۔چنانچہ حضرت مولوی عبد الرحمان صاحب یہ دیکھ کر کہ میں ذرا تاخیر سے آیا ہوں بورڈنگ ہاؤس میں نماز فجر کے بعد بھی مجھے قرآن شریف پڑھایا کرتے تھے۔میں یہ باتیں اپنے مدرسہ کے ابتدائی ایام کی لکھ رہا ہوں۔اساتذہ کی نوازشات کا تذکرہ اپنی اپنی جگہ پر آتا رہے گا"۔اس نوٹ میں جن اساتذہ اور ساتھیوں کا ذکر ہے وہ سب اس کتاب کی اشاعت کے وقت فوت ہو چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب پر رحمتیں نازل فرمائے۔آمین ) آریہ استاد سے گفتگو موسی پور (ضلع جالندھر) جہاں سے میں نے پرائمری پاس کی تھی وہاں پر نائب مدرس ماسٹر مولا بخش صاحب تھے اور اوّل مدرس ماسٹر میا رام صاحب تھے جو آریہ تھے۔میرا مدرسہ کے ہوشیار طلبہ میں شمار ہوتا تھا۔ماسٹر میا رام صاحب کو معلوم