حیاتِ خالد — Page 458
حیات خالد 454 ماہنامہ الفرقان ہوتا ہے لیکن الفرقان کا جب ہم اس حوالے سے جائزہ لیتے ہیں تو جو اشتہارات الفرقان میں چھپتے رہے ہیں ان سے کوئی قابل ذکر مالی فائدہ حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور پھر چونکہ اس رسالہ کی اشاعتی تعداد بھی زیادہ نہ تھی اس لئے لوگ کم ہی اس کو اشتہارات دیتے تھے۔بعض لوگ مولانا صاحب سے عقیدت رکھتے تھے اس لیے مسلسل اشتہارات بھجواتے تھے اس کا ذکر خیر یہاں بھی ضروری ہے ان میں خورشید یونانی دواخانہ، الفردوس انار کلی لاہور ، شیزان انٹرنیشنل الائیڈ سائنٹیفک سٹور گنپت روڈ لاہور، حکیم نظام جان اینڈ سنز، مکتبہ فیض عام ربوہ اور ڈاکٹر راجہ نذیر احمد ہومیور بوہ کے اشتہارات شائع ہوتے تھے لیکن ان سے اسقدر آمدنی نہ ہوتی تھی کہ رسالہ آسانی سے چھپ سکتا۔بہر حال حضرت مولانا کی ثابت قدمی سے یہ رسالہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آپ کی زندگی کے آخری سانسوں تک علوم قرآنی اور معرفت کی ضیاء پاشی کرتا رہا۔ماہنامہ الفرقان“ نے ۲۶ سال تک جماعت احمدیہ کی ہمہ گیر الفرقان کا مخصوص انداز خدمت کی توفیق پائی اس کا تذکرہ جماعتی تاریخ میں ہمیشہ ہوتا ہے رہے گا۔اس خدمت کا ایک مختصر اور اجمالی تذکرہ کچھ اس طرح ہے کہ :- الفرقان نے ا ء سے ۷۷ تک تبلیغی تعلیمی اور تربیتی لحاظ سے جماعت کی متنوع ضروریات کو نہایت احسن رنگ میں پورا کیا۔اس دور میں الفرقان جماعت کا مقبول ترین ماہنامہ رہا جس کا احمد گھروں میں نہایت اشتیاق اور بے تابی سے ہر ماہ انتظار کیا جاتا تھا۔0 تبلیغی لحاظ سے مختلف تبلیغی موضوعات پر بڑی باقاعدگی سے مضامین شائع ہوتے تھے جو وقت کی ضرورت کے عین مطابق ہوتے۔مخالفین جماعت کے اعتراضات کے ٹھوس اور بروقت جوابات کے لئے الفرقان اپنی مثال آپ تھا۔غیر احمدی اخبارات پر کڑی نظر رکھی جاتی اور جو نہی جماعت کے خلاف کسی جگہ سے کوئی آواز بلند ہوتی یا کوئی اعتراض اٹھایا جاتا تو الفرقان کے اگلے شمارہ میں اس کا مدلل اور مسکت جواب شائع ہو جاتا۔الفرقان کا یہ امتیاز ایسا تھا کہ جونہی کوئی مسئلہ سر اٹھاتا ، قارئین منتظر رہتے کہ کب الفرقان کا پرچہ آتا ہے اور کب وہ جواب سے آگاہ ہوتے ہیں۔ہر اعتراض کا دم نقد جواب دینا اس دور میں الفرقان ہی کا کام تھا۔غیر احمدی اخبارات مثلاً المستمر (بعد ازاں المنیر ) چشان، مستقیم اہل حدیث ، پیغام حق، الاعتصام، صدق جدید، ترجمان القرآن اور دیگر بے شمار اخبارات و رسائل سے چومکھی لڑائی کا یہ دور بہت ہی پُر لطف تھا۔بلا تاخیر اعتراض کے جواب کے بعد بعض اوقات