حیاتِ خالد — Page 457
حیات خالد 453 ماہنامہ الفرقان پہچان رہی۔مثلاً بہائیت کے بارے میں آپ لکھتے ہیں۔ہے۔بہائیت میں دوسری بیوی " جناب بہاء اللہ صاحب نے حکم دیا تھا ایسا كُمُ أَنْ تَجَاوِزُوا عَنِ الْاِثْنَتَيْنِ الاقدس نمبر ۱۳۰) کہ تم لوگ دو بیویوں سے زیادہ مت کرو۔(خود جناب بہاء اللہ کی تین بیویاں تھیں ) گویا دو بیویوں کی بہائیت میں اجازت ہے لیکن بہاء اللہ کے جانشین عبد البہاء نے یورپ و امریکہ سے متاثر ہو کر اعلان کر دیا کہ بہائیت میں صرف ایک بیوی کی اجازت ہے گذشتہ دنوں لائل پور (فیصل آباد) کے بعض بہائی ہم سے ملے۔ان کا اصرار تھا کہ ان کے لیڈروں نے بتایا ہے کہ آج بھی بہائی ازم میں عدل کی شرط سے دو بیویوں سے نکاح جائز ہے۔ان کے کہنے پر ہم نے تحریری سوال بھی لکھ دیا۔وہ وعدہ کر گئے تھے کہ اثبات میں تحریری جواب بھجوائیں گے۔یہ سوال الفرقان جولائی ۱۹۶۲ء میں شائع بھی ہو چکا ہے۔اب بہائی میگزین میں بہائیوں نے اپنے تازہ عقائد میں لکھا ہے کہ ”ایک وقت میں ایک بیوی سے زیادہ جائز نہیں کجھتے۔گویا پھر بہاء اللہ کا حکم تھا ایا كُمُ أَنْ تَجَاوِزُوا عَنِ الْاثْنَتَيْنِ کو منسوخ ہی سمجھا جا رہا ہے۔(الفرقان دسمبر ۱۹۶۲ء صفحه ۶،۵) اس اقتباس سے جہاں ان کو چوٹ کی ہے وہاں مولانا کا اپنا رویہ نہایت نرم اور پاکیزہ دوسرے رسالہ جات کی طرح الفرقان الفرقان کی مالی صورت حال اور اشتہارات بھی ہمیشہ مالی بحران کا شکار رہا۔اس کی ایک وجہ محترم سید عبدالحی صاحب ناظر اشاعت نے یہ بتائی کہ چونکہ ذاتی ملکیت والے رسالوں کا دار و مدار ان کی فروخت ہونے والی آمدنی پر ہوتا ہے اور جب تک رسالہ کے شماروں کی تعداد ۸ سے ۱۰ ہزار تک نہیں جا پہنچتی تب تک رسالہ چلانا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔الفرقان کے ساتھ بھی یہی صورت حال تھی جس پر قابو پانے کے لئے حضرت مولانا صاحب نے ۱۰ سالہ سکیم شروع کی اور پھر ۵ سالہ سکیم شروع کی۔لیکن رسالہ ہمیشہ مالی مشکلات کا شکار رہا۔لیکن یہ مولانا صاحب کا استقلال تھا جس کی بدولت یہ رسالہ چلتا رہا۔کسی رسالے کی مالی معاونت میں اشتہارات کا بہت عمل دخل ہوتا ہے اس سے آمدنی میں اضافہ