حیاتِ خالد — Page 426
حیات خالد 422 ماہنامہ الفرقان اور اپنی روایتی مہمان نوازی کے طور پر چائے وغیرہ پلاتے۔جب الفرقان کے آخری پرچہ کی تیاری جاری تھی تو میں نے گھر جا کر حضرت مولانا صاحب سے عرض کیا کہ کل مجھے دفتر سے چھٹی ہے۔کچھ مواد دے دیں تا کہ میں کتابت کر سکوں۔کچھ کتابت ہو چکی تھی۔حضرت مولانا کو شدید کھانسی تھی یہ ۲۹ مئی ۱۹۷۷ء کی بات ہے۔حضرت مولانا نے فرمایا۔کل دیں گے۔افسوس ! صد افسوس! کہ وہ کل حضرت مولانا کی زندگی میں نہ آسکی اور حضرت مولانا ۲۹ اور ۳۰ رمئی کی درمیانی شب رات ڈیڑھ بجے کے قریب اپنے قادر وکریم خدا کے حضور حاضر ہو گئے۔ہم خدا کے ہیں اور اسی کی طرف جانے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کرے اور ان کے درجات بلند کرتا رہے۔اے میرے خدا! اس عالم باعمل ، صابر وشا کر اور ایک برگزیدہ پر ہیز گار عظیم خطیب و مقر ر مصنف اور مشہور و معروف قلمکار اور نامور فدائی احمدیت اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی طرف سے "خالد" کے لقب سے اعزاز یافتہ اس وجود کو اعلیٰ تعلمین میں ایسی ہی اپنے قرب کی زندگی نصیب فرما جیسی وہ اس دنیا میں گزار گئے۔آمین یا ارحم الراحمین الفرقان کے مقام و مرتبہ کا صحیح اندازہ کرنے کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ مقام و مرتبہ کا یہ فرمان ملاحظہ ہو۔آپ نے فرمایا:- ”میرے نزدیک الفرقان جیسا علمی رسالہ میں چالیس ہزار بلکہ لاکھ تک چھپنا چاہئے اور اس کی بہت وسیع اشاعت ہونی چاہئے“۔( الفضل ۵/جنوری ۱۹۵۶ء) حضور کا یہ ارشاد رسالہ کے اجراء کے سوا چار سال بعد کا ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضرت مولانا کس طرح دن رات محنت اور کوشش کر کے رسالہ الفرقان کو اس مقام پر لے آئے کہ حضرت مصلح موعودؓ کی زبان مبارک سے یہ گرانقدر تبصرہ اس کو نصیب ہوا۔فالحمد لله قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے نے لکھا کہ :- ”رسالہ الفرقان بہت عمدہ اور قابل قدر رسالہ ہے اور اس قابل ہے کہ اس کی اشاعت زیادہ سے زیادہ وسیع ہو کیونکہ اس میں تحقیقی اور علمی مضامین چھپتے ہیں اور قرآن کے فضائل اور اسلام کے محاسن پر بہت عمدہ طریق پر بحث کی جاتی ہے۔ایک طرح سے یہ رسالہ اس غرض و غایت کو پورا کر رہا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مدنظر ریویو آف