حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 425 of 923

حیاتِ خالد — Page 425

حیات خالد 421 ماہنامہ " الفرقان سکوں کہ حضرت مولانا میرے ساتھ نہایت ہی شفقت و محبت سے پیش آتے تھے۔حضرت مولانا نے اس عاجز کو نہ صرف کاتب کی حیثیت دی بلکہ اکثر اوقات مشیر کار کی حیثیت سے بھی نوازا۔یہ ان کی انتہائی محبت تھی جس کا سلسلہ بائیس سال تک چلتا رہا۔میں چونکہ عربی ، فارسی اور اردو سمجھ کر لکھنے کا عادی ہوں۔میں نے مڈل تک فارسی کی تعلیم حاصل کی اور مدرسہ احمدیہ میں تیسری جماعت تک پڑھا۔لہذا مولانا اکثر مجھے فرمایا کرتے تھے۔" تمہیں مدرسہ احمدیہ کی تعلیم فائدہ دے گئی ہے۔الحمد للہ علی ذلک حضرت مولانا نے الفرقان کی کتابت کے سلسلے میں مجھ پر بھی غیر معمولی بوجھ نہیں ڈالا۔بلکہ جب کبھی بھی کوئی مضمون کسی صفحے سے بڑھتا ہوا معلوم ہوتا تو مولانا اس کو مختصر فرما دیتے اور میرے لئے اس صفحہ میں لکھنا آسان ہو جاتا۔بارہا ایسا ہوتا کہ البیان کے تفسیری نوٹ قدرے لمبے ہو جاتے اور جو جگہ تفسیری نوٹوں کے لئے رکھی ہوتی اس میں وہ نوٹ آنے دشوار ہوتے تو مولانا اختصار کر دیتے۔مولانا کے ساتھ کتابت کی اجرت کی ادائیگی کے متعلق مجھے کبھی شکوہ نہیں ہوا۔باقاعدہ مقررہ تاریخ پر اجرت کی ادائیگی فرما دیتے۔الا ماشاء اللہ ہی کبھی تاخیر ہوئی ہو۔الفرقان میں حضرت مولانا شذرات کے عنوان سے کئی بارشورش کاشمیری کے رسالہ چٹان کے جواب لکھتے تو مجھے لکھتے لکھتے لطف آ جاتا۔میں جب حضرت مولانا سے اس لطف کا ذکر کرتا تو مسکرا کر فرماتے سب سے پہلے تو تم مزہ لے لیتے ہو" الفرقان کی کتابت خاکسار قریبا چوہیں سال کرتا رہا۔حضرت مولانا کے تبحر علمی کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ آپ اکثر الفرقان میں جو قرآن کریم کا ایک رکوع ترجمہ اور تفسیری نوٹ کے ساتھ دیتے تھے وہ بارہا میرے پاس بیٹھے بیٹھے تحریر فرما دیتے۔الفرقان کی سلور جوبلی مولانا نے بڑے وسیع پیمانے پر ایوان محمود میں منائی۔جس میں ہمارے پیارے امام حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ امسیح الرابع کو خاص طور پر مدعوفر مایا۔رسالہ الفرقان کو اس موقعہ پر خوب سراہا گیا۔حضرت مولانا الفرقان کے خود ہی مینیجر بھی تھے اور ایڈیٹر بھی۔خود ہی حساب کتاب رکھتے تھے البتہ ایک کلرک اور ایک مددگار کارکن ہوتا تھا۔رسالہ خوب چلا اور اعلیٰ معیار پر چلا۔اس کے شذرات کا کالم بہت مقبول تھا جس سے اپنے تو اپنے غیر بھی لطف اٹھاتے اور اس جدو جہد کی خوب داد دیتے۔جب مولانا کی رہائش احمد نگر میں تھی اور جامعہ احمد یہ بھی احمد نگر میں تھا۔جس کے مولانا پرنسپل تھے۔تو میں اکثر رسالہ کی کتابت کر کے احمد نگر مولانا کو دینے جایا کرتا تھا۔آپ بہت خوش ہوتے