حیاتِ خالد — Page 397
حیات خالد فرماتے ہیں :- 390 اہم شخصیات سے ملاقاتیں اسی رسالہ میں دوسری جگہ اخبار پرتاپ جالندھر کا ایک اقتباس’ چراغ سحر“ کے عنوان سے درج ہے جس میں ایڈیٹر پرتاپ نے روزنامہ کوہستان کے نامہ نگار کی رپورٹ شائع کر کے آخر میں لکھا ہے کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا یہ کیسا حسرتناک انجام ہے۔ہمیں اس سلسلہ میں کچھ کہنے کی نہ پہلے ضرورت تھی نہ اب ہے۔مقام تعجب ہے کہ سابق احراری لیڈر مولوی محمد علی جالندھری ناظم اعلی درس گاہ تعلیم القرآن ملتان کو ۲۰ ستمبر ۱۹۶۰ء کو ہمیں رجسٹرڈ مخط لکھنے کی کیا ضرورت پیش آئی۔بیشک ماہ اگست میں ملتان سے اگست ۱۹۶۰ ء میں عطاء اللہ شاہ بخاری سے ملاقات گزرتے ہوئے میں نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے ان کے مکان پر سرسری سی ملاقات کی تھی مگر اس بارے میں ہنوز میں نے کوئی تاثرات شائع نہیں کئے۔ناظم اعلیٰ صاحب اپنی غلط فہمی کے ماتحت مجھے لکھتے ہیں کہ ربوہ میں ایک اجتماع کا انتظام کیا جائے شاہ صاحب تقریر کریں گے آپ کو اور دنیا کو شاہ صاحب دو کے عقیدت مندوں اور جاں شاروں کا اندازہ ہو جائے گا کہ وہ کتنے ہیں اور کس درجہ کے ہیں“۔جوا با گزارش ہے کہ جب عقیدت مندوں اور جاں نثاروں کا اندازہ شاہ صاحب کی زبان اور ملتان کی رہائش گاہ سے ہو جاتا ہے، کوہستان کی رپورٹ سے ہو رہا ہے تو ان کی تعداد اور درجہ معلوم کرنے کے لئے ربوہ میں اجتماع منعقد کرنے اور اس بیماری میں شاہ صاحب کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے۔قیام امن کی بجائے فساد کرنے اور ٹھوس کام کی بجائے ہنگامہ خیزی سے قوموں کو عروج حاصل نہیں ہوا کرتا۔( الفرقان اکتوبر ۱۹۶۰ء) حضرت مولانا نے اگست ۱۹۶۰ء میں ہونے والی جس ملاقات کا اشارہ ذکر کیا ہے اس کی کچھ تفصیل مکرم چوہدری عبدالحفیظ صاحب ایڈووکیٹ ملتان نے کچھ اس طرح بیان کی ہے کہ جب حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نامور احراری لیڈر جناب عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کی عیادت کیلئے ان کے مکان پر تشریف لے گئے تو وہ بھی ان کے ساتھ تھے۔عند الملاقات شاہ صاحب نے جب مولانا سے نام دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: اللہ دتا۔واپسی پر میں نے حضرت مولانا سے پوچھا کہ مولا نا ہم تو آپ کو ہمیشہ ابو العطا ء ہی کے نام سے جانتے ہیں۔آپ کا پیدائشی نام تو اب استعمال میں