حیاتِ خالد — Page 385
حیات خالد 378 اہم شخصیات سے ملاقاتیں میں آج قائد اعظم مرحوم سے اپنی اس تاریخی ملاقات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو ۲۴ ستمبر ۱۹۴۵ ء کو کوئٹہ میں ہوئی تھی۔میں بمبئی اور بعض دیگر مقامات پر ان کی اُردو تقاریر بھی سن چکا تھا ستمبر ۱۹۴۵ء کے آخری عشرہ میں جماعت احمدیہ کوئٹہ کا جلسہ تھا اور میں وہاں گیا تھا۔معلوم ہوا کہ جناب قائد اعظم بیماری کے بعد آرام کے لئے کوئٹہ میں مقیم ہیں۔دل میں زبر دست خواہش پیدا ہوئی کہ ان سے ملاقات کر کے ان کی بیمار پرسی کی جائے اور ان کے لئے دعا کی جائے۔چنانچہ ۲۴ ستمبر کو دس بجے صبح خاکسار، جناب امیر صاحب جماعت احمدیہ کوئٹہ ، مکرم مولانا غلام احمد صاحب فرخ ، جناب حافظ قدرت اللہ صاحب، مکرم مرزا محمد صادق صاحب اور عزیزم عطاء الرحمن صاحب طاہر کی معیت میں حضرت قائد اعظم کی فرودگاہ پر حاضر ہوا۔ان کے پرائیویٹ سیکرٹری جناب خورشید صاحب سے عرض کیا کہ ہم جناب قائد اعظم سے ملنا چاہتے ہیں۔انہوں نے ملاقات کا خاص مقصد پوچھا۔میں نے بتایا کہ میں جماعت احمدیہ کا مبلغ ہوں یہاں پر جماعت کا جلسہ تھا میں قادیان سے اس جلسہ میں شمولیت کے لئے آیا تھا۔دل میں شوق ہے کہ قائد اعظم سے ملاقات ہو جائے یہ احباب بھی ساتھ ہیں۔انہوں نے فرمایا کہ ان کی طبیعت کمزور ہے آپ کمرہ ملاقات میں تشریف رکھیں میں قائد اعظم کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔قائد اعظم کی رہائش کمرہ ملاقات کے بالا خانہ میں تھی۔چند منٹ ہی نہ گزرے تھے کہ ایک نحیف طویل القامت اور معمر بزرگ سیڑھیوں سے اُترے السلام علیکم کہنے اور مصافحہ کرنے کے بعد ہم سب کے ساتھ تشریف فرما ہو گئے۔اس وقت کی ان کے چہرہ کی زردی آج تک آنکھوں میں ہے۔تعارف اور خیر و عافیت پوچھنے کے بعد قریباً پندرہ منٹ تک آل انڈیا مسلم لیگ کی تگ و دو اور آئندہ کے ملک بھر کے الیکشن میں کانگریس سے مقابلہ پر جناب قائد اعظم ارشادات فرماتے رہے۔انتخابات کے ذکر پر قائد اعظم مرحوم نے فرمایا کہ مجھے صرف پنجاب کا فکر ہے۔آپ نے اس یوقت کے گورنر پنجاب اور دو اور شخصیتوں کے نام لے کر کہا کہ ہمارے راستے میں یہ بڑے روڑے ہیں۔خاکسار نے عرض کیا کہ جماعت احمد یہ گو ایک خالص مذہبی جماعت ہے مگر اس معرکہ میں پوری طرح مسلم لیگ کے ساتھ ہے اور حضرت امام جماعت احمد یہ میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے جماعت کو حکم دیا ہے کہ سب لوگ مسلم لیگ کو ووٹ دیں اور اسے کامیاب کرا ئیں۔اس مرحلہ پر قائد اعظم مرحوم کا چہرہ تمتما اٹھا اور آپ نے فرمایا کہ مجھے اس پہلو سے تسلی ہے۔اب پنجاب کے