حیاتِ خالد — Page 366
حیات خالد 366 ممالک بیرون کے اسفار کیلئے اٹھی ہے نیز احمد یہ تحریک کا بنیادی مقصد حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کامل اور افضل ترین پیغمبر ثابت کرنا ہے۔احمد یہ تحریک کے نزدیک آپ کا فیضان ہمیشہ کیلئے جاری وساری ہے۔اس کھلے تقابل کی وجہ سے احمد یہ تحریک کو ہابی تحریک سے دیکھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہابی اور بہائی اپنی جس مزعومه خود ساخته ناخ قرآن شریعت کو چھپائے پھرتے ہیں۔احمدیوں نے اسے چھپوا کر شائع کر دیا ہے۔میرے دل میں یہ تمنا تھی کہ مجھے ایران جائے اور وہاں میرے ایران جانے کے سامان کے حالات معلوم کرنے اور مقامات کو دیکھنے کا موقعہ ملے۔کے ۱۹۷۳ء میں لندن سے واپسی پر میرا ہوائی جہاز تھوڑی دیر کیلئے تہران کے ائیر پورٹ پر ٹھہرا تھا۔اس کے بعد یہ خواہش زیادہ زور پکڑ گئی۔میں نے بعض دوستوں سے اس کا ذکر کیا اور اخراجات وغیرہ کے اندازے لگوائے اچانک اسی سال مارچ میں عزیزم مکرم محمد افضل صاحب احمدی کا تہران سے ایک خط آیا کہ آپ مئی جون میں ایران آنے کیلئے تیاری کر لیں۔استخارہ کے بعد حضور (خلیفہ اسح الثالث۔ناقل ) سے اجازت حاصل کر لیں سفر خرچ کا میں ذاتی طور پر انتظام کر رہا ہوں۔عزیزم محمد افضل صاحب، میرے داماد عزیزم محمد اسلم صاحب جاوید لندن کے بڑے بھائی ہیں۔اس سال کے شروع سے میری طبیعت علیل تھی شوگر کی زیادتی تھی۔حضور اید و اللہ نصرہ سے اجازت طلب کی۔حضور نے تحریر فرمایا کہ ذاتی حیثیت میں جاسکتے ہیں۔چنانچہ ڈاکٹری سرٹیفکیٹ کی بناء پر دو ماہ کی رخصت بحالی صحت کیلئے منظور ہو گئی مگر بعض مقامی ضرورتوں کے ماتحت میں 9 رجون سے پہلے روانہ نہ ہو سکا۔ایران کیلئے روانگی ۱۸ جون کی شام کو حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ عمر نے اس خادم کو شرف مصافحہ و معانقہ عطا فرماتے ہوئے دعا کے ساتھ رخصت کیا۔میں علی الصبح 19 جون کو ربوہ سے چنیوٹ تک کار میں گیا اور وہاں سے گاڑی میں لاہور پہنچا۔لاہور سے کوئٹہ کے لئے جلد ہی ہوائی جہاز جانے والا تھا۔مگر ہمارے سرگرم مبلغ مولانامحمد بشیر صاحب شاد نے زبردست تقاضا کیا کہ سمن آباد میں آپ ایک نکاح کا اعلان کر کے روانہ ہوں۔چونکہ یہ نکاح بھی اخویم سید مسعود مبارک شاہ صاحب سیکرٹری بہشتی مقبرہ کے بیٹے کا تھا۔اس لئے میں مجبور ہو گیا۔نکاح پڑھایا اور فوراً ائیرپوٹ پر پہنچ کر جہاز میں بیٹھا۔کوئٹہ میں نزول اور مشاغل لاہور سے ایک گھنٹہ اور چندمت میں ہوائی جہاز کوئٹہ پہنچ گیا۔ائیر پورٹ پر جناب شیخ محمد حنیف صاحب امیر جماعت کو نکلے،