حیاتِ خالد — Page 31
حیات خالد 33 ابتدائی خاندانی حالات۔میرے والدین پر نہایت تنگی کے تھے مگر انہوں نے حق کی خاطر تمام مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور گاؤں کے دوسری طرف ایک مکان میں رہنے لگے۔لوگوں نے پانی بند کیا۔تعلقات قطع کر لئے۔ڈرا دھمکا کر احمدیت سے برگشتہ کرنا چاہا مگر میرے والد صاحب تن تنہا حق پر ثابت قدم رہے بلکہ مقدور بھر تبلیغ کرتے رہے۔ان مشکلات کے آغاز سے قریباً تین سال بعد میری پیدائش ہوئی۔میرے ایک چھوٹے بھائی کی وفات پر لوگوں نے دفن کرنے میں سخت مزاحمت کی۔یہ سب کچھ ہوا مگر وہ جنہوں نے خدا کے برگزیدہ رسول کا چہرہ دیکھا تھا ان کے پاؤں میں ادنی سی لغزش بھی پیدا نہ ہوئی۔یہ تکالیف عرصہ گزرنے پر کم ہوتی گئیں۔حالات بدل گئے۔حتی کہ ۱۹۲۷ء میں قبلہ والد صاحب بیمار ہو کر قادیان تشریف لائے اور اسی مقدس بستی میں کے دسمبر ۱۹۲۷ء کو دار فانی سے رحلت فرما گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔میرے والد صاحب کوئی باقاعدہ مولوی نہ تھے مگر مڈل تک تعلیم تھی۔آپ اخلاص، قربانی اور رضا بالقضا کی ایک مثال تھے۔ان کے ملنے والے تمام احمدی بلکہ غیر احمدی بھی ان کی تعریف کرتے۔ان کی انتہائی خواہش یہ تھی کہ میرے بچے خادم دین ہیں۔باوجود یکہ وہ بہت غریب تھے آپ نے کبھی نہ چاہا کہ اپنی اولاد کو اموال دنیا کے جمع کرنے میں منہمک دیکھیں۔بہت کم گو تھے۔احمدیت میں داخل ہو کر انہوں نے اپنی زندگی میں قابل رشک تبدیلی پیدا کی تھی۔(الفضل قادیان ۹ ستمبر ۱۹۳۷ صفحه ۸) حضرت مولانا ابو العطاء صاحب رحمہ اللہ تعالی نے اپنے والد بزرگ کی اولاد کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے افضال وانعامات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ( یہ اپریل ۱۹۷۵ء کی تحریر ہے۔) اللہ تعالی کا میرے والدین پر کرم تھا کہ اس نے انہیں چار فرزند ( میرے علاوہ تین ) اور دو لڑکیاں عطا فرمائیں۔مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ جب ۱۹۲۷ء میں حضرت والد صاحب کا انتقال ہو گیا تو سارے چھوٹے بھائیوں اور بہنوں کی تعلیم و تربیت کی مجھے توفیق ملی۔عزیزم مولوی عبدالغفور صاحب جالندھری حافظ قرآن اور مولوی فاضل ہیں۔انگریزی بھی اچھی جانتے ہیں۔قریبا چار سال تک جاپان میں فریضہ تبلیغ اسلام ادا کر چکے ہیں اور اب کراچی میں ایک جاپانی فرم میں کارکن ہیں۔عزیزم مولوی عنایت اللہ صاحب جالندھری مولوی فاضل اور ٹی ہیں۔سنگا پور ملایا میں تین سال خدمت دین بجالا چکے ہیں۔کافی سالوں تک بطور ٹیچر کام کرتے رہے ہیں۔اب ریٹائر ہو کر جا سکے ضلع سیالکوٹ میں تجارت کر رہے ہیں اور جماعتی تربیت میں حصہ لیتے ہیں۔عزیزم میاں عطاء المنان صاحب منشی فاضل انڈر گریجوایٹ ہیں۔ان دنوں مغربی جرمنی میں ملازمت کر رہے ہیں اور دینی