حیاتِ خالد — Page 312
حیات خالد 311۔بلا و عر بیہ میں تبلیغ اسلام اشاعت ہر طرف کر دی۔آپ کا خدشہ درست ثابت ہوا۔حکومت کی مشینری حرکت میں لائی گئی اور ایک سرکاری افسر آیا۔اس کے استفسار پر اسے بنایا گیا کہ سارے ٹریک تقسیم کئے جاچکے ہیں۔جو چند باقی تھے وہ اس افسر نے اپنے قبضہ میں کر لئے اور بس۔آپ کی دانشمندی اور پر حکمت کارروائی سے صرف شده رو پیدا اور محنت ضائع ہونے سے بچ گئی۔چند تبلیغی لطائف عنوان بالا کے تحت حضرت مولانا نے اپنے فلسطین میں قبر می برنوح کے پاس ہے! قیام کے بعض دلچسپ واقعات الفرقان میں تحریر فرمائے، آپ لکھتے ہیں :- جب میں فلسطین میں تھا (۱۹۳۱ء۔۱۹۳۶ء) ایک دن ایک عالم الشیخ عبد اللطیف العوشی اپنے چند شاگردوں کو لے کر میرے پاس دار التبلیغ ( حیفا ) میں تشریف لائے اور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا میں نے جونہی دروازہ کھولا تو اپنے تلامذہ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کہ میں ان کو لایا ہوں تا ان کے سامنے آپ کو لاجواب کر دوں۔میں نے کہا کہ جناب پہلے اندر تشریف لائیے۔قہوہ نوش فرمائیے پھر ہم آپ کے سوالات پر بھی غور کریں گے۔چنانچہ وہ اندر آگئے۔میں نے فور اسٹوو پر قہوہ تیار کر کے ان سب کے سامنے رکھا اور اپنی کرسی پر بیٹھ کر ان سے کہا کہ اب آپ فرما ئیں کیا سوال ہے۔شیخ عبداللطیف صاحب نے فرمایا کہ آپ کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاگئے ہیں۔آپ بتائیں کہ حضرت عیسی کی قبر کہاں ہے؟ میں نے کہا کہ ہمارا اعتقاد از روئے قرآن مجید یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی باقی انبیاء کی طرح وفات پاگئے ہیں مگر ہمیں ان کی قبر سے کیا سروکار ؟ وہ قبر کہیں بھی ہو ہم نے کوئی اس قبر کی پرستش کرنی ہے۔قابل غور صرف یہ بات ہے کہ آیا قرآن مجید حضرت عیسی کی وفات کا اعلان کرتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر قبر کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔میرے اس جواب پر شیخ مذکور نے اپنے شاگردوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ کیا میں نے تم کو نہ کہا تھا کہ آج اس قادیانی سے وہ سوال کروں گا جس کا اس کو جواب نہ آئے۔پھر ان سے پو چھنے لگا کہ کیا تم لوگوں نے اکیل ( حضرت ابراہیم کے نام پر فلسطین کا ایک شہر ہے جہاں پر حضرت ابراہیم اور بعض اور انبیاء کی قبریں ہیں، یہودی اس شہر کو حبر ون کہتے ہیں) دیکھا ہے؟ اور کیا اس جگہ نبیوں کی قبریں بھی دیکھی ہیں؟ طلبہ