حیاتِ خالد — Page 302
حیات خالد 301 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام کے رویہ پر نفرت کا اظہار کیا اور انہیں مناظرہ پر تیار کرنے کیلئے آمادگی ظاہر کی۔میں نے پادری صاحب کے اس مضمون کا جواب روزنامہ ”الکشکول“ کی اشاعت ۲ ستمبر میں مفصل شائع کیا ہے۔نہایت نرم لہجہ میں دوبارہ فیصلہ کن تحریری مناظرہ کیلئے بلایا ہے۔میرے مضمون کو ایڈیٹر صاحب ” الکشکول“ نے بہت پسند کیا۔امید نہیں کہ پادری صاحب مذکور مناظرہ کیلئے تیار ہوں۔بہر حال جماعت احمدیہ مصر نے فیصلہ کیا کہ پادری صاحبان کو گھر تک پہنچانے کیلئے پورے طور پر ان پر اتمام حجت کی جائے۔اگر پادری سرجیوس نہیں تو کوئی اور ہی اس میدان میں نکلیں۔علماء سے گفتگو بہت سے مشائخ سے گفتگو ہوئی لیکن آخر کار یہ لوگ عاجز آ گر فتنه بازی پر اتر آئے۔عوام الناس کو بھڑ کانے کی کوشش کرنے لگے۔بعض مساجد میں خطبہ جمعہ میں، ہمارے خلاف وعظ کیا جس سے ایک رنگ کی تبلیغ ہو گئی اس لئے احباب نے انفرادی تبلیغ کی طرف زیادہ توجه شروع کر دی ہے۔چنانچہ اشیخ محمود بلال اس ضمن میں خاص طور پر کوشش کر رہے ہیں۔بعض انصاف پسند علماء سے ابھی تک سلسلہ گفتگو جاری ہے۔وہ ہمارا لٹریچر مطالعہ کر رہے ہیں مشائخ کے دو مقامی اخباروں نے میرے خلاف مختصر نوٹ شائع کئے ہیں۔قاہرہ میں بہائیوں کی ایک انجمن ہے۔خاکسار اور السید منیر افندی بہائیوں سے مباحثات الھنی ان کی انجمن میں گئے۔انہوں نے باوجود اعلان مشتہرہ کے ہمارے ساتھ گفتگو کرنے سے احتراز کیا۔بہر حال ہم ان کے جلسہ کی کارروائی دیکھتے رہے۔چند لوگ اکٹھے ہوئے الواح کے بعض حصے پڑھے گئے ویس۔پھر ہم ایک دن بہائیوں کے سب سے بڑے عالم الشیخ محی الدین الکردی کے مکان پر گئے۔رات بارہ بجے تک اس سے بہائیت کے مختلف مسائل پر دلچسپ گفتگو ہوتی رہی۔جب وہ لا جواب ہو جاتا تو کہہ دیتا کہ بس بہاء اللہ نے ایسا ہی کہا ہے۔ہم نے اسے اپنے مکان پر آنے کی بھی دعوت دی۔۲۶ اگست کو وہ اور ان کا داماد ہمارے مکان پر آئے۔چار گھنٹے تک ان دونوں سے بہائی شریعت اور اسلامی شریعت کے مقابلہ پر بہت ہی دلچسپ گفتگو ہوئی۔ہیں سے زیادہ حاضرین تھے۔ہر ایک مسئلہ میں وہ جب لا جواب ہو کر خود کہتے کہ دوسرا موضوع شروع کرو تو دوسرا شروع کیا جاتا۔آخر پر اشیخ محی الدین کہنے لگے کہ آپ نے بہائیت کا اچھی طرح مطالعہ کیا۔میں نے کہا یہ ہمارا فرض ہے کیونکہ بہائیت کا صحیح علاج بجز احمدیت کچھ نہیں ہے۔میں نے اپنی کاپی